27 اگست 2026 - 14:15
ایران اور امریکہ کے ساتھ بات چیت جاری ہے:گروسی

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی نے کہا ہے کہ ایجنسی اس وقت ایران اور امریکہ دونوں کے ساتھ رابطے میں ہے، تاہم ایران کے جوہری معاملے پر مذاکرات فی الحال تعطل کا شکار ہیں۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی نے کہا ہے کہ ایجنسی اس وقت ایران اور امریکہ دونوں کے ساتھ رابطے میں ہے، تاہم ایران کے جوہری معاملے پر مذاکرات فی الحال تعطل کا شکار ہیں۔

گروسی نے فرانسیسی اخبار لا ناسیون سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات رک گئے ہیں اور موجودہ صورتحال ایک پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز سمیت بعض بنیادی معاملات واضح ہونے تک جوہری مسئلہ مذاکرات میں ترجیح نہیں بن سکے گا۔

انہوں نے ایران کی جوہری تنصیبات کی صورتحال کے بارے میں کہا کہ حالیہ 12 روزہ جنگ کے دوران ان تنصیبات کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔ گروسی کے مطابق ایران کا افزودہ یورینیم بنیادی طور پر اسی جگہ موجود ہے جہاں جنگ کے دوران تھا۔

آئی اے ای اے کے سربراہ نے مزید دعویٰ کیا کہ ممکن ہے حالیہ مہینوں میں ایران کے جوہری انفراسٹرکچر میں معمولی تبدیلیاں ہوئی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ’’کوہ کلنگ‘‘ نامی مقام پر جوہری تنصیبات کے کچھ حصے کی دوبارہ تعمیر شروع کیے جانے کا امکان ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی مضبوط ثبوت موجود نہیں ہے۔

گروسی نے کہا کہ ایجنسی امریکہ اور ایران دونوں سے بات چیت کر رہی ہے۔ تاہم ان کے بقول ایران کا مؤقف ہے کہ جب تک مجموعی مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہوتی، جوہری معاملے پر بھی پیش رفت ممکن نہیں ہوگی۔

دوسری جانب ایران کے جوہری توانائی کے ادارے کے سربراہ محمد اسلامی نے واضح کیا ہے کہ حالیہ فوجی حملوں میں نشانہ بننے والی جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت پارلیمان کی منظوری اور قانونی ضوابط کی تکمیل سے مشروط ہوگی۔

اسلامی نے بین الاقوامی اداروں پر امریکہ اور اسرائیل کے سیاسی دباؤ میں آنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ آئی اے ای اے کو اپنے آئینی اور قانونی دائرہ کار کے مطابق آزادانہ طور پر کام کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جن ایرانی جوہری مراکز کو فوجی حملوں کا نشانہ بنایا گیا، وہ پہلے ہی آئی اے ای اے کے ساتھ رجسٹرڈ تھے اور ان کا معائنہ بھی کیا جاتا رہا ہے۔ ان کے مطابق حملوں پر ایجنسی کی جانب سے خاموشی اور مذمت نہ کیے جانے سے اس کی غیر جانب داری اور خودمختاری پر سوالات اٹھتے ہیں۔

محمد اسلامی نے مزید کہا کہ واشنگٹن اور تل ابیب کی جانب سے متاثرہ جوہری مراکز کے معائنے کے لیے دباؤ کا مقصد اپنے فوجی حملوں کے نتائج کا جائزہ لینا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ضروری حفاظتی ضوابط اور مخصوص پروٹوکول وضع نہیں کیے جاتے، قانون کے مطابق ان تنصیبات کے معائنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha