بین الاقوامی اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، بحرینی مصنفہ زینب علی نے ایک تجزیاتی رپورٹ میں اس ملک کے اکثریتی شیعہ باشندوں میں بڑھتی ہوئی تشویش کا حوالہ دیتے ہوئے، بحرین کے شہریوں کے درمیان انصاف اور برابری کو یقینی بنانے کے حوالے سے بحرین کی عدالتی، سیکیورٹی اور مذہبی اداروں کی کارکردگی کو چیلنج کیا اور اس بات پر زور دیا کہ موجودہ صورتحال سے نکلنے کے لئے عدالتی آزادی کو مضبوط کرنا، مذہبی آزادیوں کی ضمانت دینا، اور تمام شہریوں کے قانونی حقوق کی پاسداری کرنا، ضروری ہے۔
زینب علی کی نے کہا کہ 'آل خلیفہ حکومت کی طرف سے شیعیان بحرین پر دباؤ میں شدت' آنے کے تقریباً 100 دن گذر جانے کے بعد، بحرین کے شیعہ کی سیاسی، سماجی اور قانونی موجودگی کے مستقبل کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ بعض سیاسی اور مذہبی مقدمات سے نمٹنے میں سیکیورٹی والا رویہ زیادہ نمایاں ہو گیا ہے اور اسی مسئلے نے شہریوں کے درمیان برابری کے اصولوں کی پاسداری اور ان کے شہری اور مذہبی حقوق کی ضمانت کی سطح کے بارے میں سوالات پیدا کر دیئے ہیں۔
انھوں نے اس تناظر میں، آیت اللہ شیخ عیسیٰ احمد قاسم کے حقوق، انصاف اور برابری کے تحفظ کی ضرورت سے متعلق سابقہ بیانات کا بھی حوالہ دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اہم محوروں میں سے ایک متعدد علماء، دینی مدارس کے اساتذہ اور مذہبی مبلغین کے مقدمات کی صورتحال ہے، جو مصنفہ کے مطابق، تین ماہ سے زائد عرصے سے حراست میں ہیں۔ یہ مسئلہ محض پیش کردہ الزامات تک محدود نہیں ہے، بلکہ ملزمان کو منصفانہ مقدمے، دفاع کے حق، اور عدالتی اداروں کی آزادی سے مستفید ہونے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔
زینب علی اس رپورٹ میں لکھتی ہیں: آل خلیفہ حکومت کے سیکیورٹی اور عدالتی اداروں کی تشکیل بھی متنازعہ اور غیر قانونی ہے؛ شیعہ اکثریت کا ایک بڑا حصہ تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے عمل کو غیرجانبدار نہیں سمجھتی اور اس حوالے سے انہیں تشویش رہتی ہے، اور اس بنیاد پر، انصاف کے نظام پر عوامی عدم اعتماد موجودہ صورتحال کے بنیادی چیلنجوں میں سے ایک ہے۔
اس تجزیئے کے مطابق، عقیدے کی آزادی اور مذہبی رسومات کی ادائیگی بھی بحرین کی آل خلیفہ حکومت کے رویوں کے متنازعہ محوروں میں سے ایک ہے۔
زینب علی نے خمس اور شیعہ علماء اور مبلغین کی سرگرمیوں جیسے موضوعات کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیا کہ کسی مذہبی عمل یا سرگرمی کو محض ایک مذہب سے تعلق کی وجہ سے جرم نہیں سمجھا جانا چاہئے، اور ان معاملات میں کوئی بھی عدالتی کارروائی کسی شفاف قانون کی بنیاد پر اور تمام شہریوں کے لئے یکساں معیار کے ساتھ ہونی چاہئے؛ جبکہ ایسا نہیں ہے۔
زینب علی اسی تناظر میں مذہبی آزادی کی پاسداری، عدم امتیاز، اور قانونی حقوق سے مساوی فائدہ اٹھانے کو شہریت کے تصور کے اہم اجزاء قرار دیتی ہیں۔
اس رپورٹ میں عوامی اعتماد کی بحالی میں حکومت کی ذمہ داری کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران کا حل محض سیکیورٹی اقدامات کے ذریعے ممکن نہیں ہے؛ بلکہ اس کے لئے عدالتی نظام کی آزادی کی ضمانت، منصفانہ مقدمے کے اصولوں کی پاسداری، حراست اور مقدمے کی کارروائی میں شفافیت، اور سیکیورٹی اور عدالتی اداروں کی کارکردگی کو ـ قانون کے دائرے میں رہ کر ـ یقینی بنانا ضروری ہے۔
زینب علی مزید کہتی ہیں: جن زیر حراست افراد کے الزامات ثابت نہیں ہوئے یا جن کی حراست کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے، ان کی رہائی ایک قانونی اور عوامی مطالبہ ہے۔
انھوں نے انسانی حقوق کے آزاد اداروں کی نگرانی اور متنازعہ مقدمات کے بارے میں شفاف تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔
مصنفہ کا ماننا ہے کہ بحرین کو درپیش بنیادی چیلنج محض چند عدالتی یا مذہبی مقدمات تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق شہریوں اور ریاست کے درمیان تعلق اور قانون کے سامنے برابری کے اصولوں کے حصول کی سطح سے ہے۔
اس تجزیئے کے مطابق، سماجی کشیدگی کو کم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ شہریوں کے سیاسی، شہری اور مذہبی حقوق کو ان کے مذہب یا سیاسی رجحان سے قطع نظر، یقینی بنایا جائے اور حکومت سماجی تقسیم کو گہرا کرنے کے بجائے، انصاف، برابری، مکالمے اور قانون کی حکمرانی کے راستے سے عوامی اعتماد بحال کرے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ