26 اگست 2026 - 16:23
اسرائیلی تجزیہ کار: نیتن یاہو فرضی جنگوں میں الجھے ہوئے ہیں؛ اسموتریچ کی سیاسی دوڑ جاری

اسرائیلی اخبار معاریو کے سیاسی تجزیہ کار ران ادلیسٹ نے نیتن یاہو کی جنگی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مسلسل جنگوں کے اسرائیل کے لیے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ E1 علاقے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کا منصوبہ آگے بڑھانے کی اسموتریچ کی کوشش دراصل مذہبی صہیونی حلقوں میں سیاسی حمایت حاصل کرنے کی دوڑ کا حصہ ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسرائیلی اخبار معاریو کے سیاسی تجزیہ کار ران ادلیسٹ نے اپنے مضمون میں شام میں اسرائیلی فوج کی حالیہ کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ بنیامین نیتن یاہو آخر کب تک جنگی پالیسی جاری رکھ سکتے ہیں اور اس کے نتائج اسرائیلی حکومت کو کب بھگتنا پڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج کے اہلکار، ٹینک یونٹس، پیادہ فوج اور پائلٹ یہ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ شام میں فوجی کارروائیوں کا مقصد کیا ہے۔ ان کے مطابق یہی سوال لبنان، مغربی کنارے اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے بارے میں بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔

ادلیسٹ کے مطابق ترکی اور شام کو اپنے باہمی تعلقات کے بارے میں فیصلے کرنے کا قانونی اور سیاسی حق حاصل ہے۔ اسرائیل کی جانب سے حملوں کا سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں اسے عالمی سطح پر ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس میں یورپی پابندیاں اور امریکا کی جانب سے عائد کی جانے والی بعض پابندیاں بھی شامل ہیں۔

اسرائیلی تجزیہ کار نے مذہبی صہیونی حلقوں میں جاری سیاسی کشمکش کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق وزیر خزانہ بتسلئیل اسموتریچ کی جانب سے E1 علاقے میں دوبارہ تعمیراتی منصوبہ سامنے لانا حکومت کی سرکاری پالیسی سے زیادہ ان کی سیاسی حریف عوفر وینٹر کے ساتھ جاری مقابلے سے متعلق ہے۔

ادلیسٹ نے کہا کہ اسرائیلی فوج کے ریزرو افسر عوفر وینٹر کی مذہبی صہیونی جماعت کی قیادت کی دوڑ میں شمولیت سے اسموتریچ اور ان کے اتحادیوں میں تشویش پیدا ہوئی ہے۔ اسی لیے تقریباً 1,200 رہائشی یونٹس کی تعمیر کے لیے معالیہ ادومیم اور بیت المقدس کے درمیان واقع علاقے میں منصوبہ پیش کیا گیا ہے، تاکہ مذہبی صہیونی حلقوں کے ووٹروں کو یہ پیغام دیا جاسکے کہ اسموتریچ فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ E1 منصوبہ تقریباً 35 برس قبل ایریل شیرون کے دورِ وزارتِ ہاؤسنگ میں سامنے آیا تھا اور اس کے بعد بھی وقفے وقفے سے اسے دوبارہ زیرِ بحث لایا جاتا رہا، تاہم عالمی برادری کی جانب سے اسے ہمیشہ شدید مخالفت کا سامنا رہا ہے۔

ادلیسٹ کے مطابق، E1 منصوبے پر عمل درآمد کا مقصد اسرائیلی بستیوں کو ایک دوسرے سے جوڑنا اور مغربی کنارے کے مختلف علاقوں کے درمیان جغرافیائی رابطہ منقطع کرنا ہے، جس سے ایک مربوط اور مسلسل جغرافیائی خطے پر مشتمل فلسطینی ریاست کا قیام مزید مشکل ہوجائے گا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ نیتن یاہو ماضی میں امریکا اور بعض یورپی ممالک سے وعدہ کرچکے ہیں کہ E1 میں تعمیرات آگے نہیں بڑھائی جائیں گی۔

اسرائیلی تجزیہ کار نے آبادکاروں اور اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے حلقوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ E1 منصوبہ اپنے منصوبہ سازوں کے لیے الٹا نتیجہ بھی پیدا کرسکتا ہے اور عالمی سطح پر فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

ادلیسٹ نے زور دے کر کہا کہ فلسطین کا مسئلہ اب نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور خود اسرائیل کے اندر بھی معاشرے کا ایک بڑا حصہ اس مسئلے کا سامنا کر رہا ہے۔

انہوں نے سابق اسرائیلی فوجی سربراہ گادی آیزنکوت کے فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ مستقبل میں وزیراعظم بھی بن جاتے ہیں تو E1 منصوبے پر عمل درآمد کا امکان کم ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت کا خاتمہ فلسطین کے مسئلے کے حل کی جانب پیش رفت کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha