26 اگست 2026 - 16:07
سارا نیتن یاہو کے خلاف ایک اور شکایت؛ سابق ملازم نے توہین اور بدسلوکی کے الزامات عائد کر دیے

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی اہلیہ سارا نیتن یاہو کے خلاف ایک اور سابق ملازم عدالت پہنچ گیا۔ رامی بن حمو نے ان پر توہین آمیز اور نسل پرستانہ رویے، تذلیل اور طویل اوقات تک غیر قانونی کام لینے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ کے سابق ملازم رامی بن حمو نے سارا نیتن یاہو کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے۔ درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ سارا نیتن یاہو ملازمین کے ساتھ بدسلوکی کرتی اور انہیں توہین آمیز انداز میں مخاطب کرتی تھیں۔

اسرائیلی اخبار ’’ٹائمز آف اسرائیل‘‘ کے مطابق، رامی بن حمو کا کہنا ہے کہ سارا نیتن یاہو نے اسے متعدد مرتبہ توہین آمیز الفاظ کہے اور ایک موقع پر اسے ’’پسماندہ مراکشی‘‘ بھی کہا۔

سابق ملازم نے الزام عائد کیا کہ سارا نیتن یاہو اسے مقررہ اوقات سے زیادہ اور غیر قانونی طور پر کام کرنے پر مجبور کرتی تھیں۔ اس کے علاوہ اسے سارا نیتن یاہو کی چپلوں کے تلوے گیلے ٹشو سے ہاتھ کے ذریعے صاف کرنے کا حکم بھی دیا جاتا تھا۔

درخواست کے مطابق، جب بن حمو سارا نیتن یاہو کے کسی حکم پر عمل کرنے سے انکار کرتا تو اسے شدید غصے، توہین اور تذلیل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

رواں ماہ یہ دوسری مرتبہ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ کے کسی سابق ملازم نے سارا نیتن یاہو کے خلاف قانونی کارروائی کی ہے۔ سارا نیتن یاہو گزشتہ 25 برس سے سرکاری رہائش گاہ کے ملازمین کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے متعدد الزامات کی زد میں ہیں۔ ان میں ملازمین پر چیخنا چلانا، گالم گلوچ، توہین کرنا اور ایک ملازم کو فرش پر رینگ کر باورچی خانے کی صفائی کرنے پر مجبور کرنا بھی شامل ہے۔

اسرائیلی اخبار ’’یدیعوت احرونوت‘‘ نے 8 اگست کو رپورٹ کیا تھا کہ گزشتہ 25 برس کے دوران سارا نیتن یاہو کے خلاف درجنوں شکایات، گواہیاں اور مقدمات سامنے آ چکے ہیں۔ بعض مقدمات میں انہیں ہرجانہ ادا کرنا پڑا، کچھ معاملات فریقین کے درمیان سمجھوتے کے ذریعے ختم ہوئے جبکہ بعض مقدمات عدالتوں نے خارج کر دیے

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha