بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امارات کی جانب سے ایران کے ساتھ تجارتی اور مالی لین دین ـ وقتی طور پر ـ روکنے کے اعلان کے بعد، ایرانی تاجر تیز رفتاری کے ساتھ ـ مستقل طور پر ـ متبادل راستوں اور ممالک کی تلاش میں ہیں۔
تہران چیمبر آف کامرس کے رکن علی شریعتی نے فارس نیوز کو بتایا کہ امارات میں 80 فیصد تاجر حقیقی تاجر ہیں اور 20 فیصد تاجر وہ تھے جو جعلی کاغذی کمپنیوں کے ذریعے کام کر رہے تھے، اور زر مبادلہ کی قیمتوں کے فرق سے منافع کماتے تھے [اور غالبا زر مبادلہ خرید اور بیچ کر مال بناتے تھے]۔
ان کا کہنا ہے کہ "اب جبکہ تمام غیر حقیقی تاجر امارات سے جا چکے ہیں۔" ایرانیوں سمیت دوسرے حقیقی تاجر بھی چین چلے گئے ہیں جو "ایران کا پہلا تجارتی شریک" ہے۔
پانچ روز قبل امارات کے حکمران محمد بن زاید کی ٹرمپ سے ٹیلی فونک گفتگو کے بعد، اس ریاست نے اعلان کیا کہ "ایران کے ساتھ تمام سرگرمیوں، تجارتی لین دین اور مالی معاملات کو اگلی اطلاع تک معطل کر دیا جائے گا۔"
جنگ سے پہلے ایران کی امارات کے ساتھ تجارت کا صرف 10 فیصد اس ریاست سے متعلق تھا اور باقی 90 فیصد تجارت کا تعلق دوسرے ممالک سے تھا، جس کی مالی ادائیگیاں امارات کرتا تھا۔
اب جنگ کے بعد ایران نے درآمدات کا ایک بڑا حصہ شمالی راستے اور مشرق میں زمینی اور ریلوے سرحدوں کی طرف منتقل کر دیا ہے، اور ایران مسلسل ان راستوں کے بنیادی ڈھانچوں کی توسیع میں مصروف ہے۔
۔۔۔۔
نکتہ:
کسی نے خوب کہا کہ 'منڈی ریاستوں' کو اپنی اوقات میں رہ کر تنازعات میں ملوث نہیں ہونا چاہئے، ورنہ انجام برا ہوگا۔ امارات اسی قاعدے پر عمل نہ کرکے، کئی عالمی تنازعات میں ملوث ہوکر، دوسرا اسرائیل بننے کے خواب دیکھ دیکھ کر، ماضی کی حسرت میں مبتلا ہوگیا ہے۔ آگے آگے دیکھو ہوتا ہے کیا!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ