22 اگست 2026 - 17:25
تجربہ بتا رہا ہے، اسرائیل کے خلاف اصل مزاحمت ہی مؤثر بازدارندگی ہے: مجتبیٰ امانی

ایران کے سابق سفیر برائے لبنان مجتبیٰ امانی نے کہا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات اب تک اسرائیلی جارحیت روکنے میں مؤثر ثابت نہیں ہوئے، جبکہ خطے کی صورتحال سے واضح ہے کہ اسرائیل اپنے فوجی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اور مزاحمت ہی مؤثر بازدار قوت بن کر سامنے آئی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، مجتبیٰ امانی نے ابنا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکی ثالثی میں جاری مذاکرات کا مقصد اسرائیلی حملوں اور قبضے کو روکنا ہے، تاہم اب تک ان مذاکرات نے کوئی مؤثر بازدار نتیجہ نہیں دیا۔

انہوں نے کہا کہ حزب اللہ نے جنگ بندی کے بعد طویل عرصے تک خاموشی اختیار کی تاکہ لبنانی حکومت اپنے سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے اسرائیلی جارحیت روک سکے، لیکن موجودہ مذاکرات سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔

ایرانی سفارت کار کے مطابق، لبنان اور اسرائیل کے درمیان پانچ بنیادی مسائل اب بھی حل طلب ہیں، جن میں اسرائیلی فوجی و سکیورٹی کارروائیاں، مقبوضہ علاقوں کا انخلا، جنوبی لبنان کی تعمیر نو اور اسرائیلی جیلوں میں قید لبنانی شامل ہیں۔

امانی نے کہا کہ اسرائیل گزشتہ تین برس سے حزب اللہ کے خلاف جنگ کر رہا ہے، لیکن اس کے باوجود حزب اللہ کی طاقت ختم نہیں کرسکا۔ اسی طرح غزہ میں بھی اسرائیل اپنے اعلان کردہ فوجی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے شام کے ابو الظہور فوجی ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا، حالانکہ شام کی جانب سے واضح کیا گیا تھا کہ وہاں کوئی غیر ملکی فوجی موجود نہیں۔ ان کے بقول، اسرائیل خطے میں کسی معاہدے، وعدے یا اصول کا پابند نظر نہیں آتا۔

مجتبیٰ امانی نے کہا کہ حالیہ جنگ نے مزاحمتی محاذ کو ایک متحد صف کے طور پر نمایاں کیا ہے اور یہ تبدیلی مستقبل میں خطے کی سیاسی و عسکری صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی فوجی طاقت کے باوجود اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکا، اس لیے اب اقتصادی دباؤ جیسے دیگر ذرائع استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم ایران اور خطے کی مزاحمتی قوتوں کو اس طرح شکست نہیں دی جاسکتی۔

مجتبیٰ امانی نے آخر میں کہا کہ خطے میں بدلتی صورتحال مزاحمتی محاذ کے حق میں نئے علاقائی توازن کی تشکیل کی نشاندہی کر رہی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha