اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، سردار سید محمد باقرزاده نے قطر کی جانب سے ایرانی ماہرین کی ٹیم کو قبول کرنے کے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے قطری حکومت سے قیدی ایرانی پائلٹوں کی صحت کے تحفظ کے لیے ضروری تعاون کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ زیرِ حراست افراد کو پانی پر قائم مقام میں رکھنا ان کی صحت کے لیے موزوں نہیں، اس لیے انہیں فوری طور پر خشکی پر منتقل کرکے ایک مجهز اسپتال میں علاج کی سہولت فراہم کی جائے۔
سردار باقرزاده نے عالمی ریڈ کراس سے مطالبہ کیا کہ شدید زخمی اور بیمار ایرانی پائلٹوں کو وطن واپس پہنچانے کے لیے قطر کو فوری طور پر ایئر ایمبولینس فراہم کی جائے۔
انہوں نے کویت کی جانب سے وہاں زیرِ حراست چار ایرانی شہریوں سے ایرانی سفیر کی ملاقات کی ابتدائی منظوری کا بھی خیرمقدم کیا اور کہا کہ اس اقدام سے ان افراد کی جلد رہائی کی امید پیدا ہوئی ہے۔
انہوں نے کویتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ چاروں جنیوا کنونشنز کے تحت جنگی قیدیوں کے حقوق کا احترام کیا جائے اور انہیں اپنے اہل خانہ سے ابتدائی رابطے کی سہولت فراہم کی جائے۔
سردار باقرزاده نے کہا کہ عالمی ریڈ کراس طویل عرصے سے گوانتانامو کے قیدیوں کے اہل خانہ کو اطمینان دلانے کے لیے ان کے ساتھ ویڈیو رابطے کا انتظام کرتا رہا ہے۔ اس لیے توقع ہے کہ ریڈ کراس ایرانی قیدیوں کی فوری رہائی کے لیے بھی اقدامات کرے اور انہیں اپنے خاندانوں سے ویڈیو رابطے کی سہولت فراہم کرے۔
انہوں نے عرب ممالک کے لیے خطے میں قائم ریڈ کراس کے دفتر سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے میں فوری کردار ادا کرے اور ایرانی قیدیوں کی رہائی اور ان کے اہل خانہ سے رابطے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔
آپ کا تبصرہ