اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، نیویارک ٹائمز نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ٹرمپ انتظامیہ اس وقت ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ کی مہم پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جبکہ موجودہ حالات میں ایک وسیع جنگ کی طرف واپسی بعید نظر آتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ ایک ایسی صورتحال میں ہیں جہاں ایک طرف ایران کے ساتھ کشیدگی جاری ہے اور دوسری جانب ایسے حریف کے خلاف ان کے پاس محدود آپشنز رہ گئے ہیں جو پہلے سے زیادہ جرات مندانہ انداز میں کارروائی کر رہا ہے۔
امریکی وسط مدتی انتخابات کے قریب آنے اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے بھی ٹرمپ انتظامیہ پر سیاسی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
رپورٹ میں سابق امریکی اسرائیلی سفارت کار ڈینس راس کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ تہران کا خیال ہے کہ موجودہ صورتحال میں ٹرمپ فوجی کشیدگی بڑھانے کے خواہاں نہیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مختلف جائزوں سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کو حتیٰ کہ ریپبلکن ووٹرز میں بھی وسیع حمایت حاصل نہیں، جو ٹرمپ حکومت کے لیے سیاسی کمزوری بن سکتی ہے۔
نیویارک ٹائمز نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکا اور اسرائیل کے حملوں کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہا ہے اور آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے سمیت بعض اقدامات کے ذریعے واشنگٹن پر اخراجات اور دباؤ بڑھایا ہے۔
رپورٹ میں چین کو ایران کے خلاف امریکی اقتصادی دباؤ کی مہم میں سب سے اہم عنصر قرار دیا گیا ہے، کیونکہ چین ایران سے بڑی مقدار میں تیل خریدتا ہے۔ تاہم، ٹرمپ انتظامیہ چین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور چینی صدر شی جن پنگ سے ممکنہ ملاقات کے پیش نظر بیجنگ پر مزید اقتصادی دباؤ بڑھانے سے گریز کر رہی ہے۔
امریکی کونسل برائے خارجہ تعلقات کے جیو اکنامکس مرکز کے ڈائریکٹر ایڈورڈ فش مین نے کہا کہ برسوں کی پابندیوں کے بعد ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے اب اس کے تجارتی شراکت داروں، بالخصوص چین، کو نشانہ بنانا اہم ترین آپشن رہ گیا ہے، تاہم موجودہ حالات میں ٹرمپ کے ایسا کرنے کا امکان کم ہے۔
رپورٹ کے اختتام پر نیویارک ٹائمز نے ایران کے معاملے پر امریکی حکومت کے محدود ہوتے آپشنز کا ذکر کرتے ہوئے واشنگٹن کی طویل المدتی حکمت عملی کی عدم موجودگی پر تنقید کی۔
ڈینس راس نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایران کے معاملے میں شطرنج کی طرح طویل المدتی حکمت عملی کے بجائے ’’چیکرز‘‘ کی طرح فوری اور محدود چالیں چل رہا ہے، جو واضح حکمت عملی اور مستقبل کے لائحہ عمل کے فقدان کی نشاندہی کرتا ہے۔
آپ کا تبصرہ