19 اگست 2026 - 15:45
آئی ایل او: افغانستان میں خواتین کو روزگار سے دور رکھنے سے صنفی فرق مزید بڑھ گیا

بین الاقوامی تنظیمِ محنت (آئی ایل او) نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ افغانستان میں روزگار کی مجموعی شرح میں 14 فیصد اضافہ ہوا ہے، تاہم یہ اضافہ تقریباً مکمل طور پر مردوں تک محدود رہا، جبکہ خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں شرکت مزید کم ہوگئی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بین الاقوامی تنظیمِ محنت (ILO) نے اپنی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں روزگار کے مواقع بڑھنے کے باوجود خواتین کی بڑی تعداد معاشی سرگرمیوں سے باہر ہوگئی ہے اور ملک میں صنفی بنیاد پر روزگار کا فرق مزید گہرا ہوگیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں ملازمت کرنے والے افراد کی تعداد 2022 کی کم ترین سطح کے مقابلے میں تقریباً 14 فیصد بڑھ کر 2026 میں 85 لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے، تاہم یہ اضافہ آبادی میں ہونے والے اضافے کے مقابلے میں کم ہے۔ ملک میں آبادی کے مقابلے میں روزگار کی شرح 32.5 فیصد رہی، جو 2020 کے مقابلے میں چار فیصد سے زیادہ کم ہے۔

آئی ایل او کے مطابق روزگار میں ہونے والا اضافہ مکمل طور پر مردوں میں ہوا ہے اور 2020 کے مقابلے میں مردوں کے روزگار میں تقریباً 22 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ 2022 میں خواتین کے روزگار میں آنے والی شدید کمی کے بعد معمولی بہتری دیکھی گئی ہے اور خواتین کا روزگار اب بھی 2020 کی سطح کے تقریباً ایک تہائی تک محدود ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں خواتین کی افرادی قوت میں شرکت کی شرح 2026 میں مزید کم ہوکر صرف 5.1 فیصد رہ گئی، جبکہ 2020 میں یہ شرح 16.5 فیصد تھی۔ اس صورتحال کے باعث افغانستان اب خواتین کی افرادی قوت میں شرکت کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا کم ترین ملک بن گیا ہے۔

آئی ایل او نے خواتین کی تعلیم، آزادانہ نقل و حرکت اور روزگار پر عائد پابندیوں کو اس صورتحال کی بنیادی وجوہات قرار دیا ہے۔ پاکستان اور ایران سے افغان مہاجرین کی بڑی تعداد میں واپسی نے بھی ملک کی پہلے سے کمزور روزگار کی منڈی پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے۔

افغانستان میں آئی ایل او کے سربراہ تیت ہابیاکاره نے کہا کہ جب آبادی کے ایک بڑے حصے کو معاشی سرگرمیوں سے باہر رکھا جائے تو افغانستان ایک مستحکم روزگار کی منڈی قائم نہیں کرسکتا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha