18 اگست 2026 - 16:21
فلسطینیوں کی بے دخلی کا سلسلہ جاری؛ اسرائیل نے قبضے کے طریقے بدل لیے

فلسطینی علاقوں پر قبضے کے بعد سے اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے، گھروں اور فصلوں کو نشانہ بنانے اور زمینوں پر قبضہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے، تاہم وقت کے ساتھ ان کارروائیوں کے طریقوں اور انہیں نافذ کرنے والے ڈھانچوں میں تبدیلی آئی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی قبضے کے بعد سات دہائیوں سے زائد عرصے میں فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے سیاسی، فوجی اور انتظامی طریقے تبدیل ہوئے ہیں، تاہم دیہات پر دھاوے، گھروں اور زرعی فصلوں کو نذرِ آتش کرنا، زمینوں پر قبضہ، آمدورفت پر پابندیاں اور جبری بے دخلی آج بھی جاری ہے۔

رپورٹ میں موجودہ حالات کا 1948ء میں فلسطینیوں کے بڑے پیمانے پر بے دخلی کے واقعے سے تقابلی جائزہ لیا گیا ہے۔ 1948ء میں صہیونی مسلح گروہوں کی کارروائیوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں فلسطینی اپنے گھروں اور علاقوں سے بے دخل ہوئے، جبکہ آج مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکار موجودہ اسرائیلی ریاست کے فوجی، سکیورٹی اور قانونی ڈھانچے کے زیرِ سایہ فلسطینیوں کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دونوں ادوار کے سیاسی اور فوجی حالات یکساں نہیں ہیں، تاہم فلسطینیوں کو اپنی زمینوں تک رسائی سے روکنے، انہیں خوف زدہ کرنے اور عارضی قبضے کو مستقل صورت دینے کے لیے تشدد اور دھمکیوں کا استعمال دونوں ادوار میں ایک نمایاں مماثلت رکھتا ہے۔

 مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد میں اضافے کے باعث یہ تقابلی جائزہ مزید اہم ہوگیا ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور کے مطابق، 2025ء کے دوران آبادکاروں کے 1800 سے زائد حملے ریکارڈ کیے گئے، جن میں 1190 فلسطینی زخمی ہوئے اور ان میں سے 838 فلسطینی آبادکاروں کے حملوں میں زخمی ہوئے۔ ان حملوں میں تقریباً 280 فلسطینی آبادیوں کو نشانہ بنایا گیا، یعنی اوسطاً روزانہ تقریباً پانچ حملے ہوئے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے مارچ 2026ء میں جاری اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور مغربی کنارے کے بڑے حصوں کو تیزی سے ضم کرنے کی پالیسی کے نتیجے میں 36 ہزار سے زائد فلسطینی بے گھر ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں ایک سال کے دوران آبادکاروں کے تشدد کے 1732 واقعات بھی دستاویزی شکل میں پیش کیے گئے، جن میں فلسطینیوں کو دھمکانا، گھروں اور زرعی زمینوں کو تباہ کرنا شامل ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے مطابق، آبادکاروں کا تشدد منظم اور حکمتِ عملی کے تحت کیا جا رہا ہے جبکہ اسرائیلی حکام ان کارروائیوں کی رہنمائی، ان میں شرکت یا انہیں سہولت فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha