اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صہیونی حکومت کے نیشنل سکیورٹی اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ میں ایران اور شیعہ محور کے پروگرام کے سربراہ راز تسیمت نے صہیونی اخبار ’’یدیعوت احرونوت‘‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں دعویٰ کیا کہ ایران امریکا کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی طرف واپسی کے لیے پہلے سے زیادہ سخت شرائط پیش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تہران پابندیاں ختم کرنے، منجمد اثاثے بحال کرنے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ایران دیگر محاذوں، بالخصوص لبنان اور فلسطین میں جاری لڑائی روکنے کا بھی مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کھولنے کو امریکی وعدوں پر عمل درآمد سے مشروط کر رہا ہے۔
صہیونی تجزیہ کار نے ایران کے سکیورٹی ڈھانچے میں حالیہ تبدیلیوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ اقدامات تہران کی جانب سے زیادہ جارحانہ فوجی حکمتِ عملی اختیار کرنے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ان کے مطابق قرارگاہ خاتم الانبیاء کو مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے ساتھ ضم کرنے کا مقصد فیصلہ سازی کا عمل بہتر بنانا اور اداروں کے درمیان دہرے انتظام کو کم کرنا ہے۔ انہوں نے ایرانی فوجی کمانڈروں کی تقرری کے احکامات میں استعمال ہونے والی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان سے بھی جارحانہ کارروائیوں کے لیے تیاری میں اضافے کا اندازہ ہوتا ہے۔
تاہم تسیمت نے اعتراف کیا کہ ایران نے مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں کیا۔ ان کے مطابق تہران کے فوری طور پر جنگ سے پہلے کی صورتِ حال پر واپس آنے کے امکانات کم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی قیادت اپنی حاصل کردہ صلاحیتوں، بالخصوص دفاعی طاقت اور امریکی و خطے کے دیگر ممالک پر دباؤ ڈالنے کی صلاحیت کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے اور مزید دباؤ کی صورت میں زیادہ سخت اور چیلنجنگ مؤقف اختیار کرتے ہوئے طویل مدتی محاذ آرائی کے لیے خود کو تیار کر رہی ہے۔
آپ کا تبصرہ