15 اگست 2026 - 15:51
قالیباف: ٹرمپ نے ایران کے دباؤ پر آبنائے ہرمز کھولنے کی شرط واپس لے لی

ایران کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دعویٰ کیا ہے کہ صہیونی حکومت کے ساتھ جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شرط ایران کے سخت ردعمل کے بعد واپس لے لی گئی تھی، جس کے بعد ٹرمپ نے 58 منٹ بعد اپنی پوسٹ میں ترمیم کردی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایرانی مجلسِ شورائے اسلامی کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ثقافتی شعبے سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صہیونی حکومت کے ساتھ جنگ بندی اور آبنائے ہرمز سے متعلق ہونے والی پیش رفت کی تفصیلات بیان کیں۔

قالیباف کے مطابق، جب صہیونی حکومت نے ضاحیہ پر اپنے آخری حملے میں حزب اللہ کے انٹیلی جنس شعبے کے ایک ذمہ دار اور ان کے اہل خانہ کو شہید کیا تو ایران نے سخت ردعمل کا فیصلہ کیا اور واضح کردیا کہ اگر اسرائیل نے دوبارہ جواب دیا تو خطے کے مختلف اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے اس مؤقف کے نتیجے میں اسی رات محاصرہ ختم کردیا گیا، یہ فیصلہ مفاہمت کی دستاویز پر دستخط کے 30 روز بعد نہیں بلکہ اسی رات کیا گیا تھا۔

قالیباف نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر سوشل میڈیا پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ محاصرہ اسی رات ختم کیا جائے گا، تاہم ساتھ یہ بھی لکھا کہ ایرانی آبنائے ہرمز کھول دیں گے۔

ایرانی اسپیکر کے مطابق، انہوں نے ٹرمپ کے اس بیان پر اعتراض کرتے ہوئے ثالثوں کو پیغام دیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے حوالے سے ایسا کوئی معاہدہ نہیں کیا اور اگر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ سے یہ بات فوری طور پر حذف نہ کی تو ایران اس کے اعلان کردہ مؤقف کے مطابق سخت کارروائی کرے گا۔

قالیباف نے کہا کہ 58 منٹ بعد ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں ترمیم کی اور لکھا کہ آبنائے ہرمز مفاہمت کی دستاویز کے دائرہ کار میں ہفتے سے کھول دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا: ’’یہ اسلام کی عزت کا معاملہ ہے؛ یہ مذاکرات نہیں بلکہ جدوجہد ہے۔‘‘

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha