14 اگست 2026 - 15:41
خطیب جمعہ بیروت: اسرائیل لبنان میں قبضہ مضبوط اور توسیع کرنا چاہتا ہے

بیروت کے خطیب جمعہ سید علی فضل اللہ نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی جارحیت اور قبضے کی مسلسل توسیع پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل لبنان کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی جاری رکھ کر اپنے قبضے کو مستقل اور مزید وسیع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بیروت کے خطیب جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین سید علی فضل اللہ نے نماز جمعہ کے خطبے میں جنوبی لبنان میں اسرائیلی جارحیت اور قابض اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل جنوبی لبنان کے زیرِ قبضہ علاقوں میں عمارتوں، اداروں، اسکولوں اور بنیادی ڈھانچے کو دھماکوں، آتش زنی اور تباہی کے ذریعے مسلسل نشانہ بنا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج اپنے زیرِ قبضہ علاقوں کے اطراف میں بھی حملے جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ اس کے جاسوس ڈرونز لبنان کی فضائی حدود اور خودمختاری کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بیروت اور اس کے جنوبی مضافاتی علاقوں تک پہنچ رہے ہیں۔

سید علی فضل اللہ نے کہا کہ اسرائیلی وزیر جنگ نے بھی لبنان کی سرزمین سے واضح طور پر اپنی فوج کو طویل عرصے تک لبنان میں قیام کے لیے تیار رہنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ اسرائیل شام اور غزہ کے مختلف علاقوں پر بھی قابض ہے۔ ان کے بقول، یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ اسرائیل لبنان سے مکمل انخلا کے مطالبات کو تسلیم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا اور حالات سازگار ہونے پر اپنے قبضے کا دائرہ مزید وسیع کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال لبنانی حکومت کو اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ وہ ایسے مذاکرات کے حوالے سے اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرے جو حکومت اور عوام کے مطالبات پورے نہیں کرتے۔ ان مطالبات میں مکمل جنگ بندی، اسرائیلی فوج کا تمام مقبوضہ علاقوں سے انخلا اور بے گھر شہریوں کی اپنے علاقوں میں آزادانہ واپسی شامل ہے۔

بیروت کے خطیب جمعہ نے لبنانی عوام پر زور دیا کہ وہ اسرائیل اور لبنان میں اس کے توسیع پسندانہ منصوبے سے پیدا ہونے والے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے داخلی اتحاد و یکجہتی برقرار رکھیں۔

سید علی فضل اللہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان دسیوں ہزار خاندانوں کے مسائل حل کرنے کی ذمہ داری پوری کرے جو اب بھی عارضی پناہ گاہوں یا دوسروں کے گھروں میں محدود حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ان خاندانوں کے لیے رہائش کا انتظام یا کرائے اور رہائش کی فراہمی میں مدد کرنی چاہیے، جبکہ روزگار یا ذریعہ معاش سے محروم ہونے والے افراد کے لیے باعزت زندگی کے حالات بھی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، کسی قسم کا احسان نہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha