اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، کابل میں طالبان کی سکیورٹی کمان کے ترجمان خالد زدران نے کہا ہے کہ پیر، 10 اگست کی صبح سکیورٹی کے 18ویں ضلع میں چار ’’مسلح چور‘‘ ایک گھر میں داخل ہوئے اور طالبان فورسز کے ساتھ جھڑپ کے دوران مارے گئے۔ ان کے بقول، جائے وقوعہ سے دو پستول بھی برآمد ہوئے۔
خالد زدران نے تقریباً 10 روز قبل بھی کابل کے آٹھویں سکیورٹی ضلع میں طالبان فورسز کے ساتھ جھڑپ کے دوران سات ’’مسلح چوروں‘‘ کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی۔
تاہم مقامی ذرائع اور آزاد افغان ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ دونوں واقعات میں مارے جانے والے افراد ہزارہ اور شیعہ نوجوان تھے۔
ان ذرائع کے مطابق، کابل کے مغرب میں واقع دشتِ برچی میں چار نوجوانوں کو طالبان فورسز نے براہِ راست فائرنگ کرکے قتل کیا اور بعد میں انہیں چور قرار دیا۔ سات دیگر افراد کے اہل خانہ نے بھی بتایا ہے کہ مقتولین عام شہری تھے اور ان کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا۔ بعض واقعات میں فائرنگ کے بعد دو افراد کے گلے بھی چھری سے کاٹے گئے۔
افغانستان میں انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے ان افراد کے قتل کی فوری اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ طالبان فورسز نے ان افراد کو مسلح چوری کے الزام میں فائرنگ کرکے قتل کیا تھا۔
رچرڈ بینیٹ نے پیر، 10 اگست کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تصدیق کی کہ چار افراد اسی روز جبکہ سات دیگر افراد چند روز قبل کابل کے مختلف سکیورٹی اضلاع میں مارے گئے تھے۔ انہوں نے ان واقعات پر ’’سنگین خدشات‘‘ کا اظہار کیا۔
انہوں نے زور دیا کہ مہلک طاقت کا استعمال بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے مطابق ہونا چاہیے۔
تاہم طالبان نے اب تک اپنے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں کی اور ان کارروائیوں کو مسلح چوروں کے خلاف کارروائی قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد کے بار بار سامنے آنے والے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے احتساب کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
آپ کا تبصرہ