اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی تحقیقاتی ادارے پروپبلکا کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی دوسری حکومت کے دوران محکمہ امورِ سابق فوجیوں سے سیکڑوں ماہرینِ نفسیات اور ذہنی صحت کے دیگر ماہرین نے استعفیٰ دے دیا، جبکہ ان میں سے بہت سے عہدے اب تک پُر نہیں کیے جاسکے۔
امریکی ایوانِ نمائندگان کے 60 سے زائد ڈیموکریٹ ارکان نے محکمہ امورِ سابق فوجیوں کے وزیر ڈگ کولنز کو خط لکھ کر ذہنی صحت کی خدمات میں عملے کی کمی، اس کے مریضوں پر اثرات اور علاج کے لیے انتظار کی مدت سے متعلق وضاحت طلب کی ہے۔
محکمہ امورِ سابق فوجیوں کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جنوری میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں اس ادارے میں تقریباً 500 ماہرینِ نفسیات اور نفسیاتی معالج کم تھے اور ماہر عملے کی تعداد میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔
پروپبلکا کے مطابق ایریزونا میں محکمہ امورِ سابق فوجیوں کے ایک سابق ماہرِ نفسیات نے بتایا کہ عملے کی کمی کے باعث بعض مریضوں کے انفرادی علاج کے سیشن آن لائن گروپ سیشنز سے تبدیل کردیئے گئے، جن میں بعض اوقات 35 تک سابق فوجی شریک ہوتے تھے۔
بعض دیگر معاملات میں انفرادی علاج کے سیشن کا دورانیہ بھی تقریباً 16 منٹ تک محدود کردیا گیا۔ مستعفی ہونے والے بعض ملازمین نے اپنے انخلا کے سروے میں بتایا کہ عملے کی کمی کے باعث وہ سابق فوجیوں کو مطلوبہ معیار کی طبی خدمات فراہم کرنے کے قابل نہیں رہے تھے۔
یہ بحران ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب محکمہ امورِ سابق فوجیوں کو امریکہ کا سب سے بڑا طبی نظام سمجھا جاتا ہے اور یہ تقریباً 90 لاکھ سابق فوجیوں کو خدمات فراہم کرتا ہے۔ ان افراد میں عام آبادی کے مقابلے میں ذہنی صحت کے مسائل زیادہ پائے جاتے ہیں اور ان میں خودکشی کی شرح تقریباً دوگنی ہے۔
عملے کی کمی سے متاثر ہونے والے سابق فوجیوں میں سابق امریکی بحری و بری فوجی جیسن بیمن بھی شامل ہیں، جنہوں نے متعدد معالجین کی تبدیلی اور ان کے محکمہ چھوڑنے کے بعد بالآخر اپنا علاج ہی ترک کردیا۔
دوسری جانب ڈیموکریٹ ارکانِ کانگریس نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ماہر عملے کی کمی سے نمٹنے اور سابق فوجیوں کو ذہنی صحت کی مناسب سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اپنی حکمت عملی واضح کرے۔
ٹرمپ حکومت اس سے قبل سابق فوجیوں کو اعلیٰ ترین معیار کی طبی سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کرچکی ہے۔
آپ کا تبصرہ