9 اگست 2026 - 17:05
تونس میں اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ؛ غزہ کی حمایت سے مقامی پیداوار کے فروغ تک

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے تسلسل کے ساتھ تونس میں اسرائیل کی حمایت کرنے والی کمپنیوں اور مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم زور پکڑ رہی ہے۔ تونسی کارکنوں کے مطابق بائیکاٹ فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کے ساتھ ساتھ مقامی مصنوعات کے فروغ، قومی معیشت کی مضبوطی اور بیرونی انحصار میں کمی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ’’فلسطین کے لیے اتحاد‘‘ کے نمائندے صادق عمار نے ’’بائیکاٹ، مزاحمت ہے‘‘ کے نعرے کو تونس میں فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کے مظاہروں اور ریلیوں کا اہم حصہ قرار دیا۔

انہوں نے بائیکاٹ کو محض جذباتی ردعمل قرار دینے کے بجائے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک مؤثر اور تزویراتی ہتھیار قرار دیا۔

صادق عمار کے مطابق اسرائیل کو مالی، فوجی اور لاجسٹک معاونت عالمی کمپنیوں، بڑی حکومتوں اور بااثر افراد کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں، لہٰذا اس حمایت کا سلسلہ روکنا غزہ، مغربی کنارے اور جنوبی لبنان میں جنگ جاری رکھنے کی اسرائیلی صلاحیت کو کمزور کرسکتا ہے۔

تونسی حقوق اور مزدور کارکن خالد الباز نے بھی بائیکاٹ کے ساتھ مقامی پیداوار کی حمایت کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ تونسی مصنوعات کی خریداری اور اسرائیل کی حمایت کرنے والی کمپنیوں کا بائیکاٹ نہ صرف غزہ کے عوام سے یکجہتی کا اظہار ہے بلکہ ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔

انہوں نے مقامی مصنوعات متعارف کرانے والی آن لائن مہمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد تجارتی تشہیر نہیں بلکہ صارفین کو متبادل مصنوعات سے آگاہ کرنا اور خریداری کے وقت باشعور انتخاب کی ترغیب دینا ہے۔

تونسی کارکنوں کا کہنا ہے کہ بائیکاٹ کو وقتی اور جذباتی اقدام تک محدود رکھنے کے بجائے اسے روزمرہ زندگی کا ایک منظم طرزِ عمل بنایا جاسکتا ہے۔ غزہ اور لبنان میں اسرائیلی حملوں کے تسلسل کے باعث تونس میں بائیکاٹ کی مہمات کو وسعت دینے کے مطالبات بھی بڑھ رہے ہیں۔

ان کارکنوں کے مطابق غزہ کی حمایت کو مقامی مصنوعات کی خریداری سے جوڑ کر ’’مزاحمتی صارفیت‘‘ کو فروغ دیا جاسکتا ہے، جس کا مقصد ایک طرف اسرائیل کی حمایت کرنے والی کمپنیوں پر معاشی دباؤ ڈالنا اور دوسری طرف تونس کی مقامی پیداوار کو تقویت دینا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha