عبداللہ اشعل نے تہران ایٹمی سکیورٹی کانفرنس کے بارےمیں کہا کہ اس کانفرنس کا دوسرا پیغام یہ ہےکہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن ہے اور اس میں کسی طرح کا شک و شبہ نہیں ہے۔ مصرکے سابق نائـب وزیرخارجہ نے کہا کہ تہران ایٹمی ترک اسلحہ کانفرنس سے ایران کی عالمی ڈپلومیسی کا پتہ چلتاہےجو ایران نے امریکہ اور صہیونی ریاست کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے جاری رکھی ہے۔
ادھر عرب اسٹریٹیجک سنٹر کے مشیر سامی المنصورنے کہا ہے کہ تہران ایٹمی ترک اسلحہ کانفرنس عالمی سطح پرامریکہ اور صہیونی ریاست کی سازشوں سے پردہ ہٹانے کی ایران کی فعال ڈپلومیسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ملکوں کو پرامن ایٹمی ٹکنالوجی سے استفادہ کرنے کاحق حاصل ہے۔ منصور نے پرامن ایٹمی ٹکنالوجی کےتعلق سے دوغلی پالیسیوں کا ذکرکرتےہوئے کہا کہ اس متضاد رویے کو ختم کیا جانا چاہیے۔ یادرہے تہران میں ایٹمی ترک اسلحہ بین الاقوامی کانفرنس آج دوسرے دن بھی جاری ہے۔ اس کانفرنس میں ستاون ملکوں کے مندوبین شرکت کررہےہیں۔
۔۔۔۔۔
/110