16 جون 2010 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر علی لاریجانی نے امریکہ اور تہران کی دو کانفرنسوں کا موازنہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی کانفرنس کا مقصد این پی ٹی کو کمزور بنانا اور تہران کانفرنس کا مقصد این پی ٹی کو مضبوط بنانا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹرعلی لاریجانی نے آج پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب میں امریکہ اور تہران کی دو کانفرنسوں کا موازنہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی کانفرنس کا مقصد  این پی ٹی کو کمزور بنانا اور تہران کانفرنس کا مقصد این پی ٹی کو مضبوط بنانا ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکہ نے تمام بین الاقوامی اداروں کو یرغمال بنا رکھا ہے اور کسی بھی ادارے کو صحیح سمت میں کام نہیں کرنے دیتا، انھوں نے کہا واشنگٹن کانفرنس کا مقصد ایٹمی ہتھیاروں میں کمی لانا نہیں بلکہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا طریقہ تجویز کرنا تھا لیکن تہران کانفرنس کا مقصد حقیقی معنی میں دنیا کو ایٹمی خطرات سے آگاہ کرنے اور دنیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے عاری قراردینے پر مبنی ہے  انھوں نے کہا کہ واشنگٹن کانفرنس میں این پی ٹی کے ضوابط کو واضح طور پر نظر انداز کیا گیا جبکہ تہران کانفرنس میں این پی ٹی کو مضبوط بنانے پر زوردیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تہران کانفرنس  کے شرکاء کے نام اپنے پیغام میں واضح الفاظ مین ایٹمی ہتھیاروں اور عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو حرام قراردیکر این پی ٹی کو مضبوط بنانے کا واضح طور پر اعلان کیا ہے۔

...........

/110