اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اربعین حسینی کے موقع پر بحرینی اہلِ محبتِ اہل بیتؑ کے سوشل میڈیا صفحات زیارت امام حسینؑ کی خواہش، حسرت اور جدائی کے جذبات سے بھرے ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بحرین کی حکومت نے اب تک عراق کے لیے شہریوں کے سفر پر عائد پابندی ختم نہیں کی اور اس فیصلے کے لیے کوئی ایسا قانونی یا سکیورٹی جواز بھی پیش نہیں کیا گیا جس سے زائرین مطمئن ہو سکیں۔
بحرینی شیعہ مسلمانوں کے لیے اربعین صرف ایک مذہبی سفر نہیں بلکہ عقیدت، جذبات اور روحانی وابستگی سے جڑا سالانہ اجتماع ہے۔ اسی لیے سفری پابندی کا مطلب صرف چند پروازوں کی منسوخی نہیں بلکہ ہزاروں زائرین کو ان کے اہم ترین مذہبی مراسم میں شرکت سے محروم کرنا ہے۔
بہت سے بحرینی خاندانوں نے اس سفر کے لیے کئی ماہ پہلے تیاریاں شروع کر دی تھیں۔ بعض نے اخراجات کے لیے رقم جمع کی، کچھ نے کربلا تک پیدل سفر کی نذر مانی تھی، جبکہ کئی افراد سید الشہداء حضرت امام حسینؑ سے تجدیدِ عہد کے منتظر تھے، مگر حکومتی فیصلے نے ان امیدوں کو حسرت میں بدل دیا۔
تاہم یہ پابندیاں بحرینی عوام کے کربلا سے روحانی تعلق کو ختم نہیں کر سکیں۔ گھروں پر حسینی پرچم لہرانا، مجالسِ عزا کا انعقاد اور سوشل میڈیا پر دلتنگی کے پیغامات کا وسیع اظہار اس بات کی علامت ہے کہ اگرچہ ان کے قدم اربعین کے راستے پر نہیں پہنچ سکے، لیکن ان کے دل لاکھوں زائرین کے ساتھ "لبیک یا حسینؑ" کی صدا بلند کر رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ