اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ہاآرتص نے 7 اکتوبر 2023 کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ نیتن یاہو کی ناکامی صرف اسی دن تک محدود نہیں، بلکہ اس کے بعد پیدا ہونے والے بھاری اقتصادی اور سکیورٹی اخراجات بھی ان کے سیاسی ریکارڈ کا حصہ بنیں گے۔
اخبار نے مزید لکھا کہ نیتن یاہو نے کئی برسوں تک خود کو "سکیورٹی کا محافظ" کے طور پر پیش کیا، لیکن 7 اکتوبر کا واقعہ ان کی اس تصویر کے خاتمے کا باعث بنا اور یہ ایک ایسی ناکامی میں تبدیل ہوا جس کی ذمہ داری ان کی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
ہاآرتص کے مطابق مقبوضہ علاقوں کے باشندے جنگ کے آغاز کے بعد اسرائیلی رژیم کی تاریخ کے مشکل ترین سکیورٹی ادوار میں سے ایک کا سامنا کر رہے ہیں۔
اخبار نے لکھا کہ وزارتِ جنگ کے بجٹ میں غیر معمولی اضافہ، ٹیکسوں میں اضافہ، عوامی خدمات میں کمی اور قومی قرضوں میں اضافے کے اثرات آنے والے کئی برسوں تک اسرائیلی معیشت اور عوام کے معیارِ زندگی کو متاثر کریں گے۔
دوسری جانب عبرانی اخبار معاریو کے تازہ سروے کے مطابق اگر انتخابات منعقد ہوتے ہیں تو نیتن یاہو مخالف اتحاد 62 نشستیں حاصل کر کے حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوگا، جبکہ نیتن یاہو کی قیادت میں دائیں بازو کا اتحاد صرف 48 نشستیں حاصل کر سکے گا۔
موجودہ انتخابی شیڈول کے مطابق اسرائیل میں آئندہ انتخابات 1988 کے بعد پہلے انتخابات ہوں گے جو کنیست کی چار سالہ آئینی مدت مکمل ہونے کے بعد مقررہ وقت پر منعقد ہوں گے۔
آپ کا تبصرہ