19 جولائی 2026 - 16:11
وال اسٹریٹ جرنل: ایران نے امریکی دفاعی نظام کے مطابق اپنی میزائل حکمتِ عملی ڈھال لی

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران انتہائی تیز رفتار اور بلند درجے کی چال بدلنے کی صلاحیت رکھنے والے میزائل استعمال کر رہا ہے، جن کے ذریعے اس نے امریکی دفاعی نظام کا مؤثر مقابلہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ ایران نے اپنی عسکری صلاحیتوں کو امریکی فضائی دفاعی نظام کے مطابق ڈھال لیا ہے اور اب وہ ایسے انتہائی تیز رفتار میزائل استعمال کر رہا ہے جو ہدف کے قریب پہنچ کر اپنی سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، امریکی مرکزی کمان (سینٹکام) نے اعلان کیا ہے کہ اردن میں ایرانی حملے کے نتیجے میں دو امریکی فوجی ہلاک جبکہ ایک لاپتہ ہو گیا۔ سینٹکام کے مطابق ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوبارہ آغاز کے بعد یہ امریکی فوج کی پہلی سرکاری طور پر تسلیم شدہ ہلاکتیں ہیں۔

ادھر امریکی حکام نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ حالیہ دنوں میں اردن میں ایران کے حملوں کے دوران درجنوں امریکی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر سے یہ بھی تصدیق ہوئی ہے کہ اردن میں واقع امریکی فضائی اڈے موفق السلطی پر ہونے والے حملے میں لڑاکا طیاروں کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والا ہینگر تباہ ہو گیا۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، امریکی فوجی اسی موفق السلطی فضائی اڈے پر ہلاک ہوئے، جہاں رواں سال مارچ میں امریکہ کے تھاڈ (THAAD) میزائل دفاعی نظام کو بھی ایرانی حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

امریکی حکام نے اخبار کو بتایا کہ ایران نے امریکی دفاعی نظام کی کارکردگی کا جائزہ لے کر اپنی میزائل حکمتِ عملی کو اس کے مطابق ڈھال لیا ہے اور ایسے انتہائی تیز رفتار میزائل استعمال کر رہا ہے جو زمین کے قریب پہنچ کر بھی مؤثر انداز میں سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، حساس اہداف کو نشانہ بنانے کی ایران کی اس صلاحیت نے امریکی حکام میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

دریں اثنا، صہیونی میڈیا وائی نیٹ نے رپورٹ دی ہے کہ ان پیش رفتوں کے بعد امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) ایران کے ساتھ جاری جنگ سے حاصل ہونے والے اسباق کا جائزہ لے رہا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha