16 جولائی 2026 - 16:01
بحرین کے علمائے کرام کا گرفتار روحانیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ، حکومت کو ان کی سلامتی کا ذمہ دار قرار دیا

بحرین کے علمائے کرام نے ایک مشترکہ بیان میں گرفتار شیعہ روحانیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے بحرینی حکومت کو دورانِ حراست ان کی جسمانی و ذہنی سلامتی کا مکمل ذمہ دار قرار دیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بحرین کے متعدد علمائے کرام نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے حکومتِ بحرین سے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار شیعہ روحانیوں کو فوری اور بغیر کسی شرط کے رہا کیا جائے، ان کے خلاف عائد تمام من گھڑت الزامات واپس لیے جائیں اور ان پر ڈھائے جانے والے تشدد، توہین آمیز سلوک اور دیگر پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ شیعہ علما کی حالیہ گرفتاریاں دراصل دینی مرجعیت کو نشانہ بنانے اور علمی و دینی آواز کو خاموش کرنے کی منظم کوشش ہیں، جن کا مقصد بحرین میں شیعہ برادری کے مذہبی اور سماجی کردار کو کمزور کرنا ہے۔

بحرین کے علمائے کرام نے بتایا کہ انہیں بعض زیرِ حراست روحانیوں پر جسمانی اور ذہنی تشدد کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق، ان افراد کو زبردستی اعترافی بیانات اور سرکاری دستاویزات پر دستخط کرانے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ انہیں شہریت منسوخ کرنے، قانونی حقوق سے محروم کرنے اور ان کے مذہبی عقائد و مسلک کی توہین جیسی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔

بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ علما، انبیائے کرامؑ کے وارث، شریعت کے محافظ اور دین کے امین ہیں، اس لیے انہیں نشانہ بنانا درحقیقت امتِ مسلمہ کے عقیدے اور دینی تشخص پر حملہ ہے، اور گرفتار روحانیوں کا معاملہ ہرگز فراموش نہیں کیا جائے گا۔

علمائے بحرین نے ان اقدامات کو مذہبی آزادی اور انسانی وقار کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی اور ایک بار پھر تمام گرفتار افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے بحرینی حکومت کو دورانِ حراست ان روحانیوں کو پہنچنے والے کسی بھی جسمانی یا ذہنی نقصان کا براہِ راست ذمہ دار بھی قرار دیا۔

بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ علما پر دباؤ، دھمکیوں اور گرفتاریوں سے اہلِ ایمان کے دین سے وابستگی میں مزید اضافہ ہوگا، کیونکہ علم، فقہ اور دینی فکر کو ظلم، جبر اور قید و بند کے ذریعے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha