14 جولائی 2026 - 16:54
مراکش کے معروف صحافی علی المرابط کی گرفتاری پر عالمی ردِعمل، انسانی حقوق کی تنظیموں کا فوری رہائی کا مطالبہ

مراکش کے معروف آزاد صحافی علی المرابط کی گرفتاری پر ملکی و بین الاقوامی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور صحافتی اداروں نے اس اقدام کو آزادیٔ صحافت کے منافی قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ ہسپانوی اخبار ال پائیس نے اس معاملے کو 2030 فیفا ورلڈ کپ کی مشترکہ میزبانی سے قبل مراکش کی عالمی ساکھ کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، مراکش کے ممتاز آزاد صحافی علی المرابط کی گرفتاری نے ملک کے اندر اور بیرونِ ملک شدید ردِعمل کو جنم دیا ہے۔ انہیں اتوار کے روز بارسلونا سے وطن واپسی پر طنجہ ایئرپورٹ سے حراست میں لیا گیا اور ان کے پوڈکاسٹ کی بعض اقساط کے مواد کے حوالے سے تحقیقات کے لیے کاسابلانکا منتقل کر دیا گیا۔

اس اقدام کے بعد مراکش کی متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں، جن میں مراکشی کمیٹی برائے حمایتِ سیاسی قیدیان، نیشنل سینٹر فار ہیومن رائٹس اینڈ میڈیا اور مراکشی ایسوسی ایشن برائے انسانی حقوق شامل ہیں، نے علی المرابط کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ صحافتی سرگرمیوں سے متعلق معاملات کو فوجداری مقدمات میں تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے اور عدالتی کارروائی بھی ملزم کی آزادی کی حالت میں انجام دی جانی چاہیے۔

ادھر رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (RSF) نے بھی صحافی کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ناقد آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے عدالتی نظام کا استعمال آزادیٔ صحافت کے لیے سنگین خطرہ ہے، اور علی المرابط کو فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے۔

یہ معاملہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں بھی نمایاں طور پر زیر بحث آیا ہے۔ ہسپانوی اخبار ال پائیس نے اپنے اداریے میں لکھا کہ علی المرابط کی گرفتاری اس اعتدال پسند اور جدید تشخص سے متصادم ہے جسے مراکش، اسپین اور پرتگال کے ساتھ مشترکہ طور پر 2030 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی سے قبل دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اخبار کے مطابق، آزادیٔ اظہار پر پابندیاں مراکش کی بین الاقوامی ساکھ کو متاثر کر سکتی ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha