محمد العریفی نے اپنے ایک بیان میں بزرگ مرجع تقلید آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی کی اہانت کی تھی ۔ ارنا کی رپورٹ کے مطابق صہیونی ریاست نے سعودی شیخ العریفی کے دورہ مقبوضہ فلسطین کا خیرمقدم کرتےہوئے ان سے کہا ہے کہ وہ اردن میں اسرائیل کے سفارتخانے جاکر باضابطہ طور پراسرائيل کا ویزا لے لیں۔ یاد رہے کہ عالم اسلام کی شخصیتوں نے سعودی شیخ کے مجوزہ دورہ مقبوضہ فلسطین پرشدید تنقید کی ہے ۔ تنظیم علماء فلسطین کے سربراہ اور خطیب مسجد الاقصی شیخ حامد البیتاوی نے شیح العریفی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ سعودی عرب اور صہیونی ریاست کے تعلقات برقرار کرنے کی غرض سے مقبوضہ فلسطین کا دورہ کررہے ہیں۔ انہوں نے سعودی شیخ سے دورہ منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ خطیب مسجد الاقصی نے کہا کہ سعودی شیخ کا یہ دورہ غاصب صہیونی ریاست کی ہماہنگي سے انجام پا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سعودی شيخ کو قدس کی آزادی کے بعد فلسطین کا دورہ کرناچا ہیے۔ قابل ذکرہے سعودی عرب کے درباری نام نھاد مذہبی رہنما شیخ العریفی نے حال ہی میں آیت اللہ سیستانی اور مذھب تشیع کی کے بارے میں نہایت نازیبا کلمات استعمال کئے تھے جس کے بعد عالم اسلام کی مذھبی اور سیاسی شخصیتوں نے شیخ العریفی کے اس تفرقہ انگيز اقدام کی کھل کرمذمت کی اور مطالبہ کیا کہ سعودی شیخ کو اپنے اس نازیبا اقدام پرمعافی مانگنی چاہیے۔
بشکریه از ریڈیو تہران
..............
وضاحت: یاد رہے کہ شیخ العریفی جو دارالحکومت ریاض کے امام جمعہ بھی ہیں کو آیت اللہ سیستانی کی توہین کے بعد کئی مسلم ممالک نے اپنی سرزمین پر قدم تک رکھنے سے باز رکھا اور انہیں سیکورٹی رسک قرار دے رہے ہیں اور اب جبکہ انہیں مسلم ممالک میں ناقابل اعتنا سمجھا گیا ہے تو وہ مقبوضہ فلسطین کا دوره کرکے اپنے صہیونی آقاؤں کے حضور مشرف ہونے جارہے ہیں تا کہ انہین بازرکھنے والے مسلم ممالک سے بدلہ بھی لے سکیں اور مسجدالاقصی کے امام کے مطابق "سعودی عرب کی صہیونی ریاست کے ساتھ خفیہ تعلقات کو باضابطہ اور اعلانیه بنانے کے لئے اقدام بھی کرسکیں۔
...........
/110

اسرائیل قدس میں شیخ العریفی کو خوش آمدید کہتا ہے