بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ کتاب "نظام کی تبدیلی: ڈونلڈ ٹرمپ کی بادشاہانہ صدارت اندر سے" (Regime Change: Inside the Imperial Presidency of Donald Trump) ایک انکشافی کام ہے جو میگی ہیبرمین (Maggie Haberman) اور جوناتھن سوان (Jonathan Swan)، نیویارک ٹائمز کے نامور صحافیوں کی 1000 سے زائد انٹرویوز اور تین سالہ روداد نگاری کا نتیجہ ہے۔ یہ کتاب جو ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز کے صرف 17 ماہ بعد شائع ہوئی اور اسی پہلے دن ایک لاکھ 50 ہزار نسخے فروخت کرنے کا غیرمعمولی ریکارڈ قائم کیا، وائٹ ہاؤس میں اقتدار کے ڈھانچے کی تبدیلی اور اس کی ایک "شہنشاہی صدارت (Imperial Presidency)" اور لامحدودیت اور مطلق العنانیت کی طرف حرکت کی چونکا دینے والی اور بےپردہ تصویر پیش کرتی ہے۔
حصۂ ہفتم:
ٹرمپ کی چیف آف اسٹاف، مسز وائلز (Susan L. Wiles)، نے اپنے ساتھیوں کو بتایا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں، 'ایک اور جنگ میں، امریکہ کے گھیسیٹے جانے' سے پریشان ہے۔ ایران پر امریکی حملہ یہ امکان پیدا کر سکتا تھا کہ وسط مدتی انتخابات سے مہینوں پہلے پٹرول کی قیمتوں میں شدید اضافہ کر دے، ایک ایسا انتخاب جو اس بات کا تعین کرنے میں مدد کر سکتا تھا کہ آیا ٹرمپ کی دوسری مدت کے آخری دو سال کامیابی کے سال ہوں گے یا ایوانِ نمائندگان کے ڈیموکریٹس کی جانب سے سمن اور وضاحت طلبیوں کے سال۔ لیکن بالآخر، مسز وائلز بھی اس آپریشن کی وکالت کار تھی! (5)
ٹرمپ کے قریبی حلقے میں کوئی بھی ایران کے ساتھ جنگ کے امکان سے، نائب صدر جے ڈی وینس سے زیادہ پریشان نہیں تھا، یا کسی نے بھی اس جنگ کو روکنے کے لئے اس سے زیادہ کوشش نہیں کی۔
وینس نے اپنے سیاسی کیریئر کی بنیاد بالکل اسی قسم کی فوجی مہم جوئی کی مخالفت پر رکھی تھی جس کا اب سنجیدگی سے جائزہ لیا جا رہا تھا۔ وینس نے کہا تھا کہ "ایران کے ساتھ جنگ 'وسائل کا بہت بڑا خلفشار' اور امریکہ کے لئے 'بہت مہنگی' ہوگی"۔
تاہم، وہ تمام شعبوں میں امن کا حامی نہیں تھا۔ جنوری میں، جب ٹرمپ نے ایران کو اعلانیہ طور پر خبردار کیا کہ مظاہرین کا مبینہ قتل عام بند کرے اور وعدہ کیا کہ مدد آ رہی ہے، وینس نے نجی طور پر ٹرمپ کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنی سرخ لکیر کو نافذ کر دے۔ لیکن نائب صدر نے جس چیز کا مطالبہ کیا وہ ایک محدود اور تنبیہی (یا تعزیری) حملہ تھا، جو 2017ع میں شام کے خلاف شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال پر ٹرمپ کے میزائل حملے کے ماڈل کے قریب تھا۔
نائب صدر کا خیال تھا کہ ایران کے ساتھ رجیم چینج کے لئے جنگ تباہی کا باعث بنے گی۔ وینس کی ترجیح جنگ نہیں تھی۔ لیکن وہ یہ جانتا تھا کہ ٹرمپ ممکنہ طور پر کسی قسم کی مداخلت کرے گا، چنانچہ اس نے ٹرمپ کو محدودتر کارروائی کی طرف لے جانے کی کوشش کی۔ بعد میں، جب لگا کہ صدر وسیع تر مہم کے لئے پُرعزم ہے، تو وینس نے استدلال کیا کہ اس کو یہ مہم بہت زیادہ طاقت کے ساتھ آگے بڑھانی چاہئے، اس امید پر کہ وہ جلد اپنے اہداف حاصل کر لے!!
وینس نے اپنے ساتھیوں کی موجودگی میں ٹرمپ کو خبردار کیا کہ ایران کے خلاف جنگ علاقائی افراتفری اور بےشمار جانی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ ٹرمپ کے سیاسی اتحاد کو بھی تباہ کر سکتی ہے اور بہت سے ووٹروں کی طرف سے ـ جنہوں نے نئی جنگ نہ کرنے کے وعدے پر یقین کیا تھا، ـ فریب اور دھوکہ دہی کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
وینس نے دیگر تحفظات بھی اٹھائے۔ نائب صدر کی حیثیت سے، وہ امریکی اسلحے کی قلت کی حدود سے آگاہ تھا۔ بقا کی زبردست خواہش رکھنے والی ایک نظام حکومت کے خلاف جنگ، امریکہ کو کئی سالوں تک، تنازعات میں لڑنے کے لئے، بہت بدتر صورت حال سے دوچار کر سکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
5۔ مخالفتیں دلائل پر مبنی رہیں، لیکن خاموشی ٹرمپ اور نیتن یاہو پر قلبی ایمان، یا نوکری جانے کے خوف کی وجہ سے چھا گئی اور مخالفین بھی حامیوں کی صف میں شامل رہے جس کا ایک مطلب یہ ہے کہ امریکی نظام پر عقل و منطق کی حکمرانی نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیشکش: سید محمد حسین راجی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ