29 جون 2026 - 17:08
آیت اللہ العظمیٰ کریمی جہرمی کی صدر پزشکیان کو تلقین، حکومتی ذمہ داران صبح و شام امام زمانؑ سے توسل کو اپنا معمول بنائیں

آیت اللہ العظمیٰ کریمی جہرمی نے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ملاقات میں اخلاص، عوامی خدمت، معاشی مسائل کے حل، عالمی روابط اور عوامی اعتماد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی ذمہ داران کامیابی کے لیے صبح و شام حضرت امام مہدیؑ کی بارگاہ میں توسل کو اپنا معمول بنائیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اپنے وفد کے ہمراہ آیت اللہ العظمیٰ کریمی جہرمی کے دفتر میں ان سے ملاقات کی اور ملک کی موجودہ صورتحال سمیت مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا۔

ملاقات کے آغاز میں آیت اللہ العظمیٰ کریمی جہرمی نے صدر سے ملاقات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے امام رضاؑ کی ایک روایت کی روشنی میں حقیقی عقل و دانائی کی تین بنیادیں بیان کیں۔

انہوں نے کہا کہ بڑی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے انسان کو صبر و تحمل سے غم و مشکلات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ ان کے بقول، ملک کے مسائل کے حل کے لیے بعض مواقع پر دشمنوں کے ساتھ حکمت اور مصلحت کے ساتھ برتاؤ بھی ضروری ہوتا ہے، جبکہ دوستوں کے ساتھ حسنِ سلوک، کشادہ دلی اور مضبوط تعلقات بہتر حکمرانی کا ذریعہ بنتے ہیں۔

انہوں نے صدر پزشکیان کے نہج البلاغہ سے شغف کو سراہتے ہوئے حضرت امیرالمؤمنینؑ کے فرمان کا حوالہ دیا کہ جب اللہ تعالیٰ بندوں کے اخلاص کو دیکھتا ہے تو اپنی نصرت نازل فرماتا ہے اور دشمنوں کو ذلت سے دوچار کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جتنا زیادہ اخلاص ہوگا، اتنی ہی زیادہ الٰہی مدد نصیب ہوگی۔

آیت اللہ کریمی جہرمی نے امام حسینؑ کی دعائے عاشورا کا حوالہ دیتے ہوئے صدر کو نصیحت کی کہ تنہائی، مشکلات اور مخالفین کی طعنہ زنی کے مواقع پر صرف اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں، کیونکہ اسی سے مشکلات کا حل اور آسانی میسر آتی ہے۔

انہوں نے عوامی اعتماد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جہاں قومی مفاد متاثر نہ ہو وہاں ملک کی مشکلات اور محدود وسائل سے عوام کو آگاہ کیا جانا چاہیے تاکہ افکارِ عامہ مطمئن رہیں۔

انہوں نے مہنگائی اور عوامی قوتِ خرید میں کمی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ عوام کی معاشی مشکلات کم کرنے اور گرانی پر قابو پانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

آیت اللہ کریمی جہرمی نے سابق ادوار کے تجربہ کار، دیانت دار اور مخلص منتظمین سے بھی استفادہ کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد ملک کے مسائل کے حل میں حکومت کی مؤثر معاونت کر سکتے ہیں۔

انہوں نے عالمی روابط کو ملک کی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو ملک اپنے دروازے دنیا پر بند کر لیتا ہے وہ ترقی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے رسول اکرم ﷺ کی عالمی حکمرانوں سے خط و کتابت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عزت و وقار کے ساتھ دنیا سے تعلقات استوار کیے جائیں تاکہ ملک مضبوط ہو، عوام کی فلاح میں اضافہ ہو اور مکتبِ تشیع کا بہتر تعارف بھی دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے۔

انہوں نے صدر پزشکیان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت بقیۃ اللہ امام مہدیؑ اس امت کے ولیِ امر ہیں اور یہ عوام ان کے فرزندوں کی مانند ہیں، لہٰذا امام زمانؑ کی رضا کے لیے عوام کی خدمت کریں تاکہ آپ ان کی دعاؤں سے مستفید ہو سکیں۔

ملاقات کے اختتام پر آیت اللہ العظمیٰ کریمی جہرمی نے حکومتی ذمہ داران کو نصیحت کی کہ وہ ملک کو درپیش بحرانوں سے کامیابی کے ساتھ نکلنے اور اپنے فرائض کی انجام دہی میں کامیابی کے لیے صبح و شام حضرت امام مہدیؑ کی بارگاہ میں توسل کو اپنا معمول بنائیں۔

اس موقع پر صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے بھی گزشتہ چند ماہ کے دوران ملک کی صورتحال اور پیش آنے والے مسائل کے بارے میں آیت اللہ العظمیٰ کریمی جہرمی کو تفصیلی بریفنگ دی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha