28 جون 2026 - 17:42
لبنانی ماہر قانون: واشنگٹن معاہدہ آئین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں سے متصادم ہے

آئینی ماہر کا کہنا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان نام نہاد فریم ورک معاہدہ قانونی مراحل مکمل کیے بغیر کسی آئینی یا قانونی حیثیت کا حامل نہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کے آئینی امور کے ماہر جہاد اسماعیل نے کہا ہے کہ لبنان اور اسرائیلی رژیم کے درمیان طے پانے والا نام نہاد فریم ورک معاہدہ قانونی تقاضے پورے کیے بغیر نہ تو آئینی حیثیت رکھتا ہے اور نہ ہی اسے سرکاری معاہدہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ معاہدہ منظور بھی ہو جائے تو آئین، ملکی قوانین اور لبنان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے متصادم ہونے کی بنیاد پر اسے عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

خبری ویب سائٹ العہد سے گفتگو کرتے ہوئے جہاد اسماعیل نے کہا کہ لبنان میں کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کی منظوری کے لیے پہلے کابینہ کے دو تہائی ارکان کی حمایت اور اس کے بعد پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ انہوں نے آئین کی دفعات 52 اور 65 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان مراحل کی تکمیل تک یہ معاہدہ کسی بھی قانونی یا سرکاری حیثیت کا حامل نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس معاہدے میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے کو مزاحمت کے غیر مسلح ہونے سے مشروط کیا گیا ہے، جو لبنان کے آئین اور عرب چارٹر برائے انسانی حقوق سے متصادم ہے، کیونکہ یہ چارٹر قابض قوت کے خلاف مزاحمت کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔

جہاد اسماعیل کے مطابق یہ معاہدہ 1955ء میں منظور ہونے والے اسرائیلی رژیم کے بائیکاٹ کے قانون، 1949ء کے جنگ بندی معاہدے اور اسرائیل کے بائیکاٹ سے متعلق عرب لیگ کے فیصلوں سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے میں لبنان کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور بین الاقوامی عدالت انصاف جیسے عالمی اداروں سے رجوع کرنے کے حق کو محدود کیا گیا ہے، جبکہ اسرائیلی رژیم کو مبینہ "دشمنانہ ارادوں" کی بنیاد پر فوجی کارروائی کا اختیار دینا بھی اقوام متحدہ کے منشور کے خلاف ہے۔

لبنانی ماہر قانون نے معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی امریکا کے سپرد کرنے کو لبنان کے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کو مزاحمت کے غیر مسلح ہونے سے مشروط کرنا شہریوں کے رہائش اور تحفظ کے بنیادی حق کو متاثر کرتا ہے۔

انہوں نے آخر میں معاہدات کے قانون سے متعلق ویانا کنونشن کی دفعہ 52 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی معاہدہ فوجی حملوں، قبضے یا دباؤ کی فضا میں طے پائے تو بین الاقوامی قانون کے تحت اس کی قانونی حیثیت پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha