اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، حزب اللہ کے شہید مہدی محمد ہادی ناصر کی اپنے آبائی علاقے تمنین الفوقا میں نمازِ جنازہ اور تدفین کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے حزب اللہ کے رہنما اور بعلبک۔ہرمل سے رکن پارلیمنٹ حسین الحاج حسن نے لبنان، امریکا اور اسرائیلی رژیم کے درمیان ہونے والے نام نہاد فریم ورک معاہدے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے اس معاہدے کو "ہتھیار ڈالنے اور شرمندگی کی دستاویز" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی کوئی قانونی یا قومی حیثیت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہداء، زخمیوں اور اسیران کی قربانیاں مزاحمت کی راہ کا تعین کرتی رہیں گی اور یہ سفر اپنے اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔
حسین الحاج حسن نے لبنانی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حکومت نے اسرائیلی قبضے کو جواز فراہم کر کے اپنی سیاسی اور قومی ساکھ کھو دی ہے اور وہ امریکا کے ہاتھوں میں ایک آلہ کار بن چکی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ لبنانی حکام نے اسرائیلی حملوں میں تباہ ہونے والے ہزاروں گھروں، شہید ہونے والے شہریوں اور فوجیوں کے خون کا حساب لینے اور بین الاقوامی عدالتوں سے رجوع کر کے ہرجانے کا مطالبہ کرنے سے کیوں گریز کیا۔
حزب اللہ کے رہنما نے کہا کہ مزاحمتی محاذ کے نزدیک ایسا کوئی بھی معاہدہ قابل قبول نہیں جو لبنان کے عوام کے حقوق کو نظر انداز کرے۔ ان کے بقول اس قسم کے معاہدے اسرائیلی رژیم کے بارے میں مزاحمت کے مؤقف یا پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے۔
آپ کا تبصرہ