اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ہیومن رائٹس واچ نے شام میں بڑھتے ہوئے تشدد اور فرقہ وارانہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس صورت حال کے باعث ماضی میں ہونے والے جرائم پر انصاف کی فراہمی کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ تنظیم نے زور دیا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تمام مقدمات کی آزاد عدالتی اداروں کے ذریعے شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
تنظیم کی رپورٹ کے مطابق شام کے مختلف علاقوں میں سابق حکومت کے دور میں ہونے والے جرائم میں ملوث افراد کے احتساب کے مطالبے کے لیے احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ اسی دوران بعض مقامی گروہوں نے مذہبی اور سماجی بنیادوں پر اشتعال انگیز کارروائیاں بھی کیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انصاف کا مطالبہ اپنی جگہ درست ہے، لیکن کسی شخص کو اس کے مذہب یا سماجی پس منظر کی وجہ سے نشانہ بنانا ہرگز قابل قبول نہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دمشق کے علاقوں المزہ 86 اور عش الورور، جہاں زیادہ تر علوی برادری آباد ہے، میں پیش آنے والے واقعات کے دوران املاک کو نقصان پہنچا جبکہ کئی افراد زخمی ہوئے۔ حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے سکیورٹی فورسز نے بعض علاقوں کے داخلی راستے بند کر دیے۔ اسی طرح صوبہ ادلب کے شہر سلقین میں بھی نامعلوم افراد نے متعدد دکانوں اور تجارتی مراکز کو نقصان پہنچایا۔
دوسری جانب شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شام کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے واقعات میں کم از کم 14 افراد ہلاک ہوئے۔ ان واقعات میں قتل، فرقہ وارانہ جھڑپیں، انتقامی حملے، فائرنگ اور دیگر سکیورٹی واقعات شامل ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ اگر ماضی میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مؤثر احتساب نہ کیا گیا تو تشدد اور انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ تمام مقدمات کی سماعت آزاد عدالتوں میں شفاف اور منصفانہ انداز میں کی جائے، تاکہ ملک میں قانون کی بالادستی قائم ہو اور تمام شہریوں کے جان و مال اور بنیادی حقوق کا بلاامتیاز تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ کا تبصرہ