بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ خلیج فارس کی عرب ریاستوں نے اپنی سرزمین اور مالی وسائل امریکہ اور اسرائیل کے سپرد کئے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جنگ میں حصہ لیا لیکن اب گویا سمجھ گئے ہیں کہ جس طرح کہ انہوں نے ایران کے خلاف امریکی-صہیونی جنگ کے اخراجات برداشت کر لئے ہیں اب انہیں جنگ کے بعد آنے والے اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے۔
انقلاب دشمنوں اور عرب ریاستوں کا علی رضا نوری زادہ نے "فردا" ریڈیو کے ساتھ انٹرویو میں کہا: "عرب ریاستوں کے حکمران نجی مکالموں میں کہتے ہیں کہ امریکہ نے ایران کو زخمی کیا ہے اور اس دشمنی کی قیمت ان ریاستوں کو ادا کرنا پڑے گی۔"
اس نے اعتراف کیا کہ "یہ ریاستیں مسلسل کوششیں کر رہی ہیں کہ ایران کے ساتھ مزید کوئی جنگ نہ ہو؛ وہ بھی ایسے حال میں کہ ان ریاستوں کو ـ بحرین سے قطر تک اور سعودی عرب سے امارات اور کویت تک، ـ سب ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کی وجہ سے بھاری نقصانات اٹھانا پڑے ہیں۔"
نوری زادہ نے مزید کہا: خلیج فارس کی عرب ریاستیں جانتی ہیں کہ امریکہ کے انخلاء کے بعد کے دور میں پورے اخراجات ان ہی کو برداشت کرنا پڑیں گی چنانچہ ان کا غم و ہمّ یہی ہے کہ ان اخراجات کو کم کر دیں۔ اسی بنا پر انہوں نے ایران کے ساتھ تعامل کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔"
یاد رہے کہ خلیج فارس کے جنوب میں واقع عرب ریاستوں نے امریکہ کو ایران کے خلاف اکسانے میں بنیادی کردار ادا کیا جس کے عوض انہیں فطری طور پر نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے؛ امارات سے لے کر ـ جس نے خطے میں دوسرا اسرائیل بننے کی ہمہ جہت کوششیں کیں ـ بحرین، کویت اور قطر تک، جنہوں نے اپنے وسائل اور سرزمینیں امریکیوں کے سپرد کئے ہیں۔
ایران سمیت پوری دنیا جانتی ہے کہ ان ریاستوں نے امریکہ سے درآمد کردہ سلامتی کی خام خیالی میں مبتلا ہوکر ایران کو نقصان پہنچانے اور ایران کے حکومت نظام کے خاتمے کے لئے امریکہ اور صہیونی ریاست کی ہر ممکن مدد کی لیکن انہیں شاید معلوم نہیں تھا کہ وہ اپنی معیشت، سلامتی اور اپنی خودمختاری صہیونیوں اور امریکیوں پر قربان کر رہی ہیں اور اب انہیں اس جنگ کے نتائج کی قیمت بھی ادا کرنا پڑے گی۔ [یاد رہے کہ امریکہ نے جنگ کے ایام میں ہی اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کو ہرجانہ ادا کرنا طے ہؤا تو وہ ہرجانہ بھی ان ہی عرب ریاستوں کو ادا کرنا پڑے گا]۔
آج ان ریاستوں کی طرف سے، ایران کی طاقت اور استقامت کے نتیجے میں اپنا سلوک بدلنے کی نشانیاں دکھائی دے رہی ہیں۔
بے شک، امریکہ اور صہیونی ریاست نے خطے میں ایسی جنگ کا آغاز کیا جس نے خطے کی سلامتی اور معیشت کو تباہی سے دوچار کیا اور خلیج فارس کی عرب ریاستوں نے عظیم تزویراتی غلطی کا ارتکاب کرتے ہوئے اس جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کا بھرپور انداز سے ساتھ دیا، وہ بھی ایک طاقتور ملک کے خلاف جو ہمیشہ سے ان ریاستوں کا ہمسایہ تھا اور ہمیشہ کے لئے ان کا ہمسایہ رہے گا؛ چنانچہ اب انہیں اس غلطی کا تاوان ادا کرنا پڑ رہا ہے۔
ظاہر ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی اندھادھند پیروی نے ان ریاستوں کو بے بس کر دیا ہے اور اب امریکہ اس علاقے سے پسپا ہوتا ہے اور اگر جنگ دوبارہ چھڑ جائے تو یہ ریاستیں پہلے سے بھی زیادہ بے بس ہونگی، یہاں تک کہ ان کا وجود ہی خطرے سے دوچار ہوسکے۔
عرب ریاستوں کو برادرانہ مشورہ:
واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے گذشتہ 47 سالوں سے بارہا ان ریاستوں کو مشورہ دیا ہے کہ علاقائی سلامتی کی طرف رجوع کریں اور انہیں خبردار کیا ہے کہ درآمد شدہ سلامتی کسی کام نہیں آتی۔
چنانچہ یہ کہ ہوش کے ناخن لے کر ایران کے ساتھ بہتر تعلق قائم کرنے کے لئے میدان میں آئیں اور معمول کی چھوٹی اور امیر ریاستوں کی طرح جنگ اور تنازع کے میدانوں میں اترنے سے پرہیز کریں۔
واضح رہے کہ خلیج فارس کی عرب ریاستوں نے گذشتہ دہائیوں میں اپنی زیادہ تر آمدنی امریکی ـ اور اسرائیلی ـ ہتھیار خریدنے پر خرج کی ہے، ہتھیاروں کے انبار لگائے ہیں، اور امریکیوں کو اڈے دیئے ہیں اور اپنے بزعم "قابل اعتماد ڈیٹرنس کا کامیاب انتظام" کیا ہے، لیکن جنگ کے دوران یہ سب کام نہيں آیا، اور ہتھیار امریکہ کے کام آئے، اور ان ہتھیاروں کو ایران کے خلاف استعمال کیا گیا، بحرین، سعودی عرب اور امارات نے ایران کے خلاف جنگ میں براہ راست کردار بھی ادا کیا۔ لیکن وہ ایران کے مقابلے میں زدپذیر نظر آئے جس کی وجہ ہتھیاروں کی کمی اور بیرونی حمایت کی کمی نہیں بلکہ ان ریاستوں کی اپنی ساخت، کم آبادی، اور زیادہ تر ریاستوں کا انتہائی کم رقبہ، افرادی قوت کی کمزوری اور تنخواہ لینے کے لئے بیرون ملک سے آنے والی افراد قوتوں پر انحصار، نیز ایک بڑے علاقائی ملک کے خلاف لڑنے کی عدم صلاحیت وہ عوامل ہیں جو ان ممالک کے ساتھ رہیں گے، اور کامیاب ڈیٹرنس صرف ایران کے ساتھ عدم جارحیت کا معاہدہ کم اور ایران کے خلاف دشمن کی صف میں کھڑا نہ ہونے کا قابل بھروسہ عہد، کی صورت میں حاصل ہو سکتا ہے۔
کچھ مغرب نواز تجزیہ کار ـ جو حقائق کو کم اور امریکی خوشنودی کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں ـ اس حقیقت کو نظرانداز کرتے ہیں کہ خلیج فارس کی عرب ریاستیں جنگوں اور تنازعات کی صورت میں ـ ہر حال میں ـ زدپذیر ہیں، اور انہیں اصولی طور پر معمول کی چھوٹی اور صاحب ثروت ریاستوں کی طرح، کسی بھی فوجی چپقلش سے دور رہ کر اپنی سلامتی کا تحفظ کرنا چاہئے۔ یہ واحد کام ہے جو ایسی ریاستیں کر سکتی ہیں اور اسی میں ان کی عافیت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ