26 جون 2026 - 15:55
بحرین: رژیم آل خلیفہ نے اظہارِ رائے پر پابندیوں کے تسلسل میں شیعہ سماجی محققہ کو گرفتار کر لیا

بحرین کی حکومت نے عاشورا سے متعلق انسٹاگرام پر ایک پوسٹ شائع کرنے کے الزام میں شیعہ سماجی محققہ فاطمہ ہارون کو گرفتار کر لیا، جبکہ بحرین کی قیدیوں کے امور کی کمیٹی نے اس اقدام کو آزادیٔ اظہار کے خلاف ایک اور کارروائی قرار دیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بحرین کے آل خلیفہ حکومت نے شیعہ سماجی محققہ فاطمہ ہارون کو عاشورا کے حوالے سے انسٹاگرام پر ایک رائے شائع کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔

بحرین کی وزارتِ داخلہ نے جمعرات کے روز دعویٰ کیا کہ فاطمہ ہارون کو سوشل میڈیا کے غلط استعمال کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔ وزارت کے مطابق ان کی جانب سے شائع کیا گیا مواد ملک کے ایک مذہب کی کھلے عام توہین پر مشتمل تھا۔

دوسری جانب بحرین کی قیدیوں کے امور کی کمیٹی نے اس گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملک میں آزادیٔ اظہار پر منظم پابندیوں اور اہلِ فکر، دانشوروں اور سماجی کارکنوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا ایک اور مظہر قرار دیا۔

کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ فاطمہ ہارون کے خلاف عائد کیے گئے الزامات عمومی اور مبہم نوعیت کے ہیں، جنہیں ماضی میں بھی ناقدین کے خلاف عدالتی کارروائی اور آزادیٔ اظہار کو جرم قرار دینے کے لیے بارہا استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اس سماجی محققہ نے صرف اپنے فطری اور قانونی حق کے تحت اپنی رائے کا اظہار کیا تھا۔

بحرین کی قیدیوں کے امور کی کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایک معروف تعلیمی اور سماجی شخصیت کو محض سوشل میڈیا پر اظہارِ خیال کی بنیاد پر گرفتار کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک میں دانشوروں اور علمی شخصیات پر دباؤ میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر مزید سخت نگرانی اور آزادیٔ اظہار کو محدود کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ کمیٹی کے مطابق یہ اقدامات بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں اور عالمی اصولوں سے متصادم ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha