16 جون 2010 - 19:30

چیچن باغیوں نے روس میں دو بڑے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے ان دھماکوں میں 51 افراد ہلاک ہوگئے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورت کی مطابق انتہاپسند اور علیحدگی پسند چیچن باغیوں کے سربراہ "دوکو عمروف" نے  ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ انھوں نے ماسکو سب وے دھماکوں کی ہدایات جاری کی ہیں۔

انھوں نے www۔kavkazcenter۔com پر نشر ہونے والے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ان کا یہ اقدام ان چیچن اور اینگوش باشندوں کا انتقام تھا جو 11 فروری کو "اینگوشتیا" کے علاقے "آرکتی" کے قریب روسی افواج کے ہاتھوں ہلاک ہوگئے تھے۔ انھوں نے مزید حملوں کی دھمکی بھی دی۔

دوکو عمروف جو "اماراتِ قفقاز" کے "امیر" کہلوانا پسند کرتے ہیں اور غیر اسلامی انتہاپسندانہ و شدت پسندانی وہابی تعلیمات سے متأثر ہیں۔ انھوں نے اپنی پیغام میں کہا ہے کہ روس کی سرزمین پر ان کے حملے جاری رہیں گے۔

انھوں نے روسی باشندوں سے مخاطب ہوکر کہا: "جنگ تمہارے محلوں تک آئے گی اور اس کی شدت تم اپنی کھال کے اندر بھی محسوس کرو گے"۔

عمروف نے کہا کہ انھوں نے یہ یپغام پیر کے روز ماسکو کے دھماکوں کے چند گھنٹے بعد ریکارد کرایا ہے۔ دوسری طرف سے روسی وزیراعظم ولادیمیر پیوٹن نے سیکورٹی فورسز سے کہا ہے کہ ان حملوں میں ملوث افراد کو ماسکو کی نکاسی کی سرنگوں سے نکال کر باہر لے آئیں۔

ماسکو سب وے میں بم دھماکے کے علاوہ بدھ کے روز بھی روس کے جنوب میں دو خودکش حملے ہوئے ہیں جن میں مرنے والوں کی تعداد 12 تک پہنچ گئی ہے جن میں 9 سیکورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ جبکہ ماسکو سب وے دھماکوں میں 39 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

دھماکوں کے مقامات کا نقشہ

خودساختہ امارات قفقاز کے خود خواندہ امیر دوکو عمروف جو وہابی تفکر سے متأثر ہیں

دھماکے کا شکار ہونے والے افراد

دھماکے کا شکار ہونے والے افراد

دھماکے سے کچھ لمحے بعد کا منظر

دھماکے سے کچھ لمحے بعد کا منظر

دھماکے سے کچھ لمحے بعد کا منظر

دھماکے سے کچھ لمحے بعد کا منظر

دھماکے سے کچھ لمحے بعد کا منظر

دھماکے سے کچھ لمحے بعد کا منظر

دھماکے سے کچھ لمحے بعد کا منظر؛ نجات کے لئے کوشش

دھماکے سے کچھ لمحے بعد کا منظر؛ نجات کے لئے کوشش

روسی صدر کی طرف سے ہلاک ہونے والوں کی تعظیم

عوام کی طرف سے ہلاک شدگان کی یادگار

خودکش حملہ آوروں کی لاشیں

چیچن انتہاپسند وہابیوں کی ویب سائٹ

عمروف، روسی عوام کو دھمکیاں دیتے ہوئے

..............................

چیچن باغیوں کا پس منظر

تاریخی علیحدگی پسندی

چیچنیا میں علیحدگی پسندی کی تحریک تاریخی پس منظر کی حامل ہے اور یہ اس وقت شروع ہوئی جب زار روس نے انیسویں صدی کے آغاز پر ان علاقوں پر قبضہ کیا تھا۔

جوزف اسٹالن کا دور

سویت آمر جوزف اسٹالن نے دوسری جنگ عظیم کے زمانے میں چیچن جمہوریہ اور ان کے اینگوش پڑوسیوں کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور کرکے انہیں وسطی ایشیا کے نہایت ٹھنڈے اور بے آب و گیاہ علاقوں میں جلاوطن کرکے بسایا اور یہ لوگ تیرہ برس تک ان علاقوں میں رہنے پر مجبور ہوئے۔

اسٹالن کو موت آئی تو جلاوطن ہونے والے چیچن اور اینگوش باشندوں کی اکثریت کا سردی اور غربت کی وجہ سے انتقال ہوگیا تھا۔ اسٹالن کے بعد تشکیل پانے والی سویت حکومت نے انہیں اپنے علاقوں میں واپسی کی اجازت دے دی تو بچے کھچے لوگ اپنے گھروں کو لوٹ آئے۔

پہلی خونی لڑائی

11 دسمبر 1994 کو تین بکتر بند روسی ڈویژن دارالحکومت گروزنی پر چڑھ دوڑے۔ یہ ایک وسیع اور غیرانسانی جنگ کا آغاز تھا جو کبھی تو روایتی جنگ کی شکل اختیار کرلیتی تھی اور کبھی رک بھی جایا کرتی تھی اور کچھ عرصے کے لئے گوریلا جنگ میں بھی تبدیل ہوئی اور کبھی کبھی دہشت گردی کی شکل میں بھی نمودار ہوئی۔

سابق سویت جنرل جوہر دودایف ـ جنہوں نے 1991 میں چیچنیا کی خودمختاری کا اعلان کیا تھا ـ 1994 میں چیچنیا کے صدر بنے اور کریملن کی حکمرانی اس وقت بورس یلتسن کے ہاتھ میں تھی۔ اس زمانے میں چیچنیا ماسکو کے لئے ایک مصیبت میں تبدیل ہوگیا تھا اور یلتسن مذاکرات کی راہ پر گامزن ہونے کی بجائے اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے کہ "ایک چھوٹی اور محدود مگر کامیاب لڑائی" انہیں اپنے مخالفین اور منتقدین کے سامنے تقویت پہنچائی گی۔ چنانچہ انھوں نے دسمبر 1994 میں اپنی افواج چیچنیا  کی طرف روانہ کردی۔

اس روز سے آج تک چیچنیا میں دو خونی لڑائیاں ہوئی ہیں اور دوسری جنگ میں چیچن باغیوں کے مرکزی قائدین ہلاک کردیئے گئے مگر یہ لڑائی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی اور اس وقت یہ گوریلا جنگ یا پھر دہشت گردی کی صورت میں جاری ہے اور کبھی کبھی چیچنیا کی پڑوسی جمہوریاؤں میں بھی خونی حملوں کا سلسلہ دنیا کی نظروں سے مخفی نہیں ہے۔

1994 میں یلتسن کی بی تدبیری سے شروع ہونے والی جنگ 20 مہینے (1996 تک) جاری رہی اور اس لڑائی میں 80 ہزار نہتے عوام موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے؛ گروزنی کا شہر ویرانے میں تبدیل ہوگیا؛ چیچنیا کی ویراں سرزمین کو ڈی فیکٹو خودمختاری ملی اور "اصلان مسخدوف" جوہر دوایف کے قتل کے بعد چیچنیا کے صدر بنے۔

دوسری خونی لڑائی

1999 میں ولادیمیر پیوٹن روس کے وزیر اعظم تھے۔ اس زمانے میں روس پر مشکوک حملوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان حملوں کو چیچن باغیوں سی منسوب کیا گیا جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں روس کی خفیہ سروس ملوث تھی۔ بہرحال روس نے چیچن باغیوں کو مورد الزام ٹہرا کر اپنے ٹینک ایک بار پھر چیچن کی سرزمین مجروح کی جانب روانہ کئے۔

دوسری جنگ شروع ہوئی تاکہ ایک پوری نوجوان نسل اپنے والدین، بھائیوں اور بہنوں کے قتل عام اور رنج و زحمت کی گواہ بنے۔ اس جنگ میں روسی افواج کو بھی کافی جانی نقصانات اٹھانا پڑے۔

چیچن جمہوریہ نے گھٹنے ٹیک دیئے اور چیچنیاامید و آرزو سے خالی ریاست میں تبدیل ہوگیا۔ روسی افواج ابھی تک اس جمہوریہ میں موجود ہیں جو اب اپنے باشندوں کی نظروں کے سامنے بھی ایک اجنبی سرزمین میں تبدیل ہوگئی ہے۔ لگتا ہے کہ روسی افواج کبھی بھی اس سرزمین سے واپس نہیں جائیں گی اور یہ عجیب اور دردناک صورت حال کبھی بھی اختتام پذیر نہ ہوسکے گی۔

فائدہ کس نے اٹھایا؟

چیچن مرگئے، زخمی ہوئے، ترقی و تعمیر سے محروم ہوگئے اور روسی نوجوان بھی فوجیوں کی صورت میں موت کا شکار ہوئے مگر ان خونی لڑائیوں سے ملک کی حیثیت سے روس کو اور قوم کے لحاظ سے چیچن ملت کو کوئی فا‏ئدہ نہ ملا بلکہ دو غیر انسانی گروہوں کو فائدہ پہنچا: چیچن باشندوں پر رحم کے بارے میں کبھی نہ سوچنے والے "چیچن انتہاپسند" اور روس کے "مافیائی اور بد اطوار و بد عنوان سرکاری اہلکار"

فاسد اہلکاروں نے عظیم فوجی بجٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی سے اپنی جیبیں بھردیں اور انتہاپسند اسلام کا لبادہ اوڑھ کر دینی علائم جیسے لفظ جلالہ "اللہ" اور لمبی لمبی داڑھیوں سے فائدہ اٹھاکر برصغیر میں وہابیت سے متأثر دہشت گردوں کے راستے پر چل نکلے اور دہشت گردی کا راستہ اختیار کیا تا کہ ایک بار پھر چیچنیا کی مجروح سرزمین پر روسی حملوں کی راہ ہموار کرسکیں۔

وہابی تفکرات

آج دنیا جہان میں اسلام کے نام پر دہشت گردی کے پس پردہ وہابی تفکر کسی سی بھی پوشیدہ نہیں رہ سکا ہے اور چیچنیا بھی اسی تفکر کی وجہ سے ویرانے میں تبدیل ہوگیا ہے اور جتنی بھی بدبختیاں اور دشواریاں آج چیچن مسلمانوں پر مسلط کی گئی ہیں ان کے دو ہی اسباب ہیں ایک طرف سے وہابی تفکر اور دوسری طرف سے روسی ظلم و ستم۔

وہابی تفکر کے اصلی علمبرداروں کو بھی کافی فنڈز مل رہے ہیں اور یہ فنڈز وہابی خدائی خدمتگاروں کی طرف سی مل رہے ہیں وہ وہابی خدائی خدمتگار جن سے اسرائیل تو بہت خوش ہے اور غزہ کے مسلمانوں کی حمایت کو حرام قرار دے رہے ہیں مگرمسلم دنیا میں خون خرابہ ان کا پرانا پیشہ ہے اور چیچنیا بھی ان ہی اسلامی سرزمینوں میں سے ایک ہے جس کو وہابیت نے ڈس لیا ہے.

البتہ جہاد افغانستان کے دوران سی آئی اے اور آئی ایس آئی کی طرف سے "جہاد کی تعلیم" عام کی گئی تو قفقاز اور وسطی ایشیا کے ممالک میں بھی ان کے اثرات نمودار ہوئے جو آج تک نظر آرہے ہیں گو کہ ان تفکرات کی بنیاد پر دہشت گرد ٹولوں کی تربیت کرنے والے ممالک کو خود اپنی جان کے لالے پڑے ہیں۔

خدا ہی امریکی و اسرائیلی و روسی و برطانونی اور یورپی اور ایشیائی کفر اور اس کی خدمت میں ہروقت دست بہ سینہ وہابیت سے مسلمانوں کی جان چھڑا لے ـ آمین۔