بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ جانے پہچانے امریکی [یہودی] ماہر اقتصادیات ڈاکٹر جیفری ساکس (Jeffrey D Sachs) کا خیال ہے کہ امریکہ اب اس یقین پر پہنچ گیا ہے کہ اسرائیلی اندازوں کے برعکس، طاقت کے ذریعے ایران پر اپنی مرضی مسلط کرنا ممکن نہیں ہے؛ نتیجہ یہ کہ اب امریکی حکومت ایک غیر یقینی صورت حال کو جنگ میں واپسی پر، ترجیح دیتی ہے۔
ڈاکٹر پروفیسر جیفری ساکس کہتے ہیں:
حصۂ دوئم:
* امریکہ ایران سے انقلاب اسلامی کا بدلہ لینا چاہتا ہے اور اس کی توانائی کے وسائل کو نگلنا چاہتا ہے
- بحران کو امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان ایک عارضی تنازع کے آئینے میں نہیں دیکھنا چاہئے، بلکہ اسے کئی گہرے منصوبوں کے باہمی ملاپ کا نتیجہ سمجھتے ہیں:
1۔ امریکی سیاست کا ایک حصہ خواہشمند ہے کہ ایران سے سنہ 1979ع کے اسلامی انقلاب کا بدلہ لیا جائے؛
2۔ واشنگٹن کا وہم ـ خاص طور پر ٹرمپ کا ذہنی تصور ـ یہ ہے کہ تیل اور گیس کی عالمی منڈی پر واشنگٹن کا کنٹرول ہو؛ اور
3۔ تیسرا اسرائیل کا علاقائی تسلط کا منصوبہ ہے جس کو "عظیم تر اسرائیل" کے [یہودی] تصور کے فریم ورک میں بیان کیا جا سکتا ہے۔
- اسرائیل کی کوشش یہ ہے کہ امریکہ کو علاقائی جنگوں میں کھینچ کر، اپنے تسلط کے راستے میں موجودہ اہم رکاوٹوں کو دور کرے اور ہر اس عنصر کو کچل سکے جو اس کے علاقائی منصوبے کے سامنے کھڑا ہو۔ اس نظریئے کے مطابق،
- ایران ان تینوں منصوبوں کے امتزاج کے سامنے اہم رکاوٹ شمار ہوتا ہے؛ ایک منصوبہ جو ـ امریکہ کے تاریخی انتقام پسندانہ رویئے، توانائی پر کنٹرول کے لئے جیو پولیٹیکل لالچ اور مشرق وسطیٰ کی نئی ترتیب کے لئے اسرائیل کی جاہ طلبی ـ سے سیراب ہوتا ہے۔
* امریکہ ناقابلِ اعتماد ہے
- موجودہ مبہم، غیر یقینی اور غیر مستحکم صورت حال سے نکلنا صرف اس وقت ممکن ہے جب ایران اپنی سیاسی پہل کو ایک ساختی، رسمی اور کثیرالجہتی مذاکرات کی شکل میں دوبارہ میز پر لا کر رکھ دے۔
- اگر ایران کا 10 نکاتی منصوبہ واقعی وہی بنیاد ہے جسے ٹرمپ نے بھی کبھی معاہدے کی بنیاد تسلیم کیا تھا، تو تہران کو اسے واضح طور پر پیش کرنا چاہئے اور امریکہ سے کہنا چاہئے کہ وہ اسی فریم ورک کے اندر بات کرے۔
- میں ایرانی حکام کو خبردار کرتا ہوں کہ واشنگٹن اس طرح کے عمل میں قابلِ اعتماد نہیں ہے اور مذاکرات کے دوران امریکیوں کی دھوکہ دہی اور فریب کاری کا ریکارڈ، اس کی ایمانداری اور امانت داری سے کہیں بڑھ کر ہے۔ لہٰذا
- امریکیوں کے نزدیک مطلوب حل، نہ تو التوا کی صورت حال کو جاری رکھنا ہے اور نہ بحران کو بڑھانے کے لئے دباؤ ڈالنا، بلکہ کیس کو ایک کثیرالجہتی فریم ورک میں منتقل کرنا ہے؛ ایک ایسا فریم ورک جو ایران کے لئے، امریکہ کے لئے اور خطے کی حقیقی سلامتی کے لئے موجودہ تعطل سے بہتر، نتیجہ معرض وجود میں لا سکے۔
اختتام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رپورٹ: رضا حسینی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ