16 جون 2010 - 19:30

متفقہ وزیراعظم کی انتخابت کے سلسلے میں مالکی ـ حکیم اتفاق

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق المالکی کا اتحاد "حکومت قانون" اور سید عمار حکیم کا اتحاد "قومی اتحاد" متفقہ وزیراعظم کے انتخاب پر متفق ہوگئے ہیں۔ ان دو سیاسی اتحادوں نے اتفاق کیا ہے کہ وزارتوں کے قلمدان بانٹنے کے لئے کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی اور عمار الحکیم نے کہا ہے کہ علاوی کے اتحاد کو بھی آنے والی حکومت میں حصہ دیا جائے۔ دوسری طرف سے اقوام متحدہ کی طرف سے عراقی انتخابی نتائج میں بھرپور مداخلت اور ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے میں اس بین الاقوامی ادارے کے کردار کا انکشاف ہوا ہے۔ بازخواست و عدل بورڈ (Board of Interpellation and Justice) نے انکشاف کیا ہے کہ اقوام متحدہ عراق کی قومی الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈال رہی ہے اور اسے ووٹوں کی دوبارہ گنتی سے روک رہی ہے اور کمیشن بھی اقوام متحدہ کی خواہشات پوری کر رہا ہے۔ بازخواست و عدل بورڈ کے صدر "علی اللامی" نے کہا: پارلیمانی انتخابات کے مختلف امیدواروں کے ساتھ الیکشن کمیشن کا رویہ دوہرا رہا ہے اور اس کمیشن نے بعض امیدواروں کے لئے شرائط مقرر کی تھیں جبکہ بعض دیگر کو ان شرائط سے مستثنی قرار دیا تھا۔ اللامی نے کہا: ہمارے پاس ناقابل انکار ثبوت ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتخابات میں چھ بعثی امیدواروں کو بعث پارٹی سے وابستہ افراد کی نااہلی کے قانون کو نظرانداز کرکے انتخابات میں شرکت کی اجازت دی گئی اور یہ افراد منتخب بھی ہوگئے ہیں۔ چنانچہ ہم نے الیکشن کمیشن کو یادداشت بھجوائی ہے اور کمیشن کو بتایا گیا ہے کہ بازخواست و عدل بورڈ نے ان افراد کی نامزدگی کی واضح طور پر مخالفت کی تھی اور یہ افراد پارلیمان میں نمائندوں کی حیثیت سے حاضر ہونے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ دوسری طرف سے وزیراعظم نوری المالکی نے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں بغداد میں متعین اقوام متحدہ کے نمائندہ دفتر کے کردار پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔المالکی نے کہا: اقوام متحدہ کے نمائندے نے عراق میں ووٹوں کی دستی بازشماری کی مخالفت کی ہے جبکہ اقوام متحدہ کے دفتر کا فرض تھا کہ وہ عوام کی طرف سے ووٹوں کی دستی گنتی کی درخواست پر الیکشن کمیشن سے عملدرآمد کرواتا لیکن وسیع عوامی مطالبات کے باوجود اس دفتر نے الیکشن کمیشن کو ووٹوں کی دوبارہ گنتی سے منع کیا اور الیکشن کمیشن نے بھی قومی مطالبات کے برعکس اقوام متحدہ کے دفتر کی خواہش کے مطابق عمل کیا۔ ادھر الحیات نے لکھا ہے کہ بازخواست و عدل بورڈ نے 5 دیگر افراد کو انتخابات سے حذف کردیا ہے۔اس سے قبل چھ افراد کو بعث پارٹی سے وابستگی کے الزام پر کامیاب امیدواروں کی فہرست سے خارج کیا گیا تھا۔ نئے پانچ افراد ـ جن کے نام کامیاب امیدواروں کی فہرست سے خارج کردیئے گئے ہیں ـ کا تعلق عراق کے قومی اتحاد سے بتایا گیا ہے۔ یادرہے کہ حذف شدہ افراد کی تعداد 11 ہوگئی ہے اور ان میں اکثر کا تعلق ایاد علاوی کے اتحاد "العراقیہ" سے ہے۔ اور یہ افراد مختلف کیسوں میں عراقی عدلیہ کو مطلوب ہیں۔ دریں اثناء بازخواست و عدل بورڈ کے سربراہ علی اللامی نے کہا ہے کہ حذف ہونے والے افراد کی تعداد 20 تک پہنچ سکتی ہے۔ ادھر صدر گروپ کے سربراہ مقتدا صدر نے وزیراعظم کے انتخاب کے حوالے سے موجودہ اختلاف کو دور کرنے کے لئے عراق میں وزیراعظم کے انتخاب کے لئے رفرینڈم کی تجویز پیش کی ہے۔ انھوں نے اپنی جماعت کی الیکشن کمیٹی کے نام خط لکھ کر تجویز پیش کی ہے کہ وزیر اعظم کے انتخاب کے لئے ملک گیر رفرینڈم کرانے کا اہتمام کیا جائے۔ یادرہے کہ صدر گروپ نے منتخب پارلیمان میں چالیس نشستیں حاصل کی ہیں۔ دوسری جانب سے عراق کے قومی اتحاد کے رکن نے کہا کہ علاوی کی جانب سے سب سے بڑی پارلیمانی پارٹی کی تشکیل بعید از قیاس ہے۔ انتفاض قنبر نے کہا کہ سب سے بڑی پارلیمانی پارٹی کی تشکیل کے لئے دو تہائی اراکین پارلیمان کی حمایت کی ضرورت ہے جس کے لئے کئی جماعتوں کا اتحاد ضروری ہوگا جبکہ میری رائے میں العراقیہ کے لئے یہ مہم سر کرنا بہت دشوار ہے۔ اردنی روزنامے "الغد" نے لکھا ہے کہ موجودہ صورت حال سے معلوم ہوتا ہے کہ المالکی اور الحکیم کردوں کے اتحاد سے مل کر حکومت کی تشکیل کی طرف بڑھ رہے ہیں جبکہ ایسی صورت میں انہیں ایاد علاوی کی بھی کوئی ضرورت نظر نہیں آرہی۔ الغد نے لکھا ہے کہ ایک طرف سے المالکی اور الحکیم کردوں سے اتحاد کررہے ہیں اور دوسری طرف سے بعث پارٹی کے منتخب اراکین کے خلاف قانون کا نفاذ کرکے انہیں بے دخل کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے العلاوی کا اتحاد دوسرے نمبر پر پہنچ گیا ہے اور پھر عراق کی وفاقی عدالت نے بھی حکم دیا ہے کہ صرف وہی اتحاد حکومت بنانے کا اہل ہوگا جو سب سے بڑی پارلیمانی پارٹی تشکیل دے سکے؛ لہذا العلاوی کی طرف سے حکومت کی تشکیل کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آتا جبکہ نوری المالکی کی سربراہی میں حکومت قانون اتحاد کی کامیابی کے اثرات بالکل روشن ہوچکے ہیں۔....../110