17 جون 2026 - 16:42
شکست پروپیگنڈا "ایران نے حرمین شریفین پر حملہ کیا"؛ جنگِ رمضان کے بعد پاکستان کے اہلِ سنت علماء میں بیداری

حجت الاسلام ڈاکٹر محمد باقر مهدوی نے "ڈاکٹرائنِ مقاومت اور جنگِ رمضان میں خواتین کا کردار" کے عنوان سے منعقدہ علمی و تحقیقی نشست میں کہا ہے کہ پاکستانی عوام میں ایک بنیادی فکری تبدیلی رونما ہوئی ہے اور آج پاکستان کی تقریباً 80 فیصد آبادی اسلامی انقلابِ ایران کے نظریات اور اہداف کی حامی ہے۔ ان کے بقول، مزاحمت کا نظریہ اب مذہبی حدود سے آگے بڑھ چکا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کے شعبۂ مطالعاتِ علومِ انسانی کے ریسرچ سیکریٹری حجت الاسلام ڈاکٹر محمد باقر مهدوی نے کہا کہ پاکستان کے بارے میں تجزیہ کرتے وقت حکومت اور عوام کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی دباؤ کے باوجود پاکستانی عوام آج بھی اسلامی انقلاب کے اہداف کی حمایت میں پیش پیش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ پاکستانی حکمران سیاسی وابستگیوں کے باعث امریکہ کی پالیسیوں کے تابع نظر آتے ہیں، لیکن عوامی سطح پر صورتحال مختلف ہے اور پاکستانی عوام کے دل آج بھی امام خمینیؒ کی تحریک اور ان کے جانشین کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

جنگِ رمضان کے بعد اہلِ سنت کے رویّے میں نمایاں تبدیلی

ڈاکٹر مهدوی نے کہا کہ جنگِ رمضان کے اثرات صرف عسکری میدان تک محدود نہیں رہے بلکہ اس نے عوامی سفارت کاری کے میدان میں بھی اہم نتائج پیدا کیے۔ ان کے مطابق ایران کے استکبار مخالف مؤقف کی حمایت اب صرف شیعہ برادری تک محدود نہیں رہی بلکہ پاکستان کے اہلِ سنت حلقوں میں بھی اس کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ماضی میں بعض اہلِ سنت علماء حرمین شریفین کے خصوصی احترام اور منفی پروپیگنڈے کے باعث ایران کے بارے میں شکوک و شبہات رکھتے تھے، لیکن حالیہ واقعات کے بعد ان کی سوچ میں واضح تبدیلی آئی ہے۔

"مکہ و مدینہ پر حملے" کے پروپیگنڈے کی ناکامی

ڈاکٹر مهدوی نے کہا کہ امریکی ذرائع ابلاغ نے بھرپور کوشش کی کہ یہ تاثر دیا جائے کہ ایران نے سعودی عرب اور حتیٰ کہ مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کے مطابق اس پروپیگنڈے کا مقصد اہلِ سنت کے مذہبی جذبات کو بھڑکانا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے جنگ کے آغاز کے چند روز بعد افطار کا ایک پروگرام منعقد کیا جس میں شیعہ علماء کو مدعو کیا گیا اور سوال اٹھایا گیا کہ ایران کی حمایت کیوں کی جا رہی ہے جبکہ اس پر حرمین شریفین کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔

مهدوی کے مطابق جب عوام نے خود دیکھا کہ ایران صرف اپنے دشمنوں اور ان مراکز کو نشانہ بنا رہا ہے جہاں سے اس کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں اور مقدس مقامات کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا، تو یہ تاثر تیزی سے ختم ہوگیا۔

پاکستان میں "رہبرِ شہید" کے لیے تعزیتی اجتماعات

انہوں نے کہا کہ اس تبدیلی کا ایک اہم مظہر یہ تھا کہ بعض اہلِ سنت علماء نے اپنی سابقہ آراء پر نظرثانی کی اور کھلے عام پشیمانی کا اظہار کیا۔ ان کے بقول بعض مقامات پر "رہبرِ شہید" کے لیے تعزیتی اجتماعات اور مجالسِ ترحیم بھی منعقد کی گئیں۔

ڈاکٹر مهدوی نے اس صورتحال کو اسلامی انقلاب کی فکری و ابلاغی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ثابت ہوا کہ حقیقت پسندی اور عوامی شعور امریکی میڈیا کے وسیع پروپیگنڈے پر غالب آ سکتا ہے۔

ایران کی قیادت اور دیگر سیاسی رہنماؤں میں فرق

انہوں نے کہا کہ ایران کی قیادت دیگر عالمی رہنماؤں سے مختلف ہے کیونکہ اکثر سیاسی رہنما استکبار کے خلاف کھل کر بات کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں، جبکہ ایران کی قیادت نے عملی میدان میں اپنے مؤقف کو ثابت کیا ہے۔

اس سلسلے میں انہوں نے سابق پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صرف یہ کہا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر امریکی فوجی اڈوں کی اجازت نہیں دے گا، جس کے بعد انہیں شدید سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان میں ایران کی غیر معمولی مقبولیت

ڈاکٹر مهدوی نے دعویٰ کیا کہ مختلف قومی اور بین الاقوامی سرویز کے مطابق پاکستان ان ممالک میں سرفہرست ہے جہاں ایران اور اسلامی انقلاب کے لیے عوامی حمایت سب سے زیادہ پائی جاتی ہے، اور بعض سرویز میں یہ شرح 80 فیصد سے بھی زیادہ بتائی گئی ہے۔

انہوں نے اس مقبولیت کو اسلام کے لیے قربانی اور استقامت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ولایت اور مزاحمت کے نظریے کے لیے غیر معمولی احترام پایا جاتا ہے۔

حکومت اور عوام کو ایک نظر سے نہ دیکھا جائے

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے زور دیا کہ حکومتوں کی پالیسیوں کو عوام کے جذبات اور خواہشات کا مکمل عکاس نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عوامی دباؤ موجود نہ ہو تو بعض حکمران اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی طرف بھی جا سکتے ہیں، لیکن پاکستان کے عوام اس راستے میں رکاوٹ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دانشوروں اور مذہبی رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایران اور پاکستان کے عوام کے درمیان موجود فکری اور نظریاتی تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha