17 جون 2026 - 00:17
حصۂ اول | معرکۂ مقدسہ سے لے کر سمجھوتے تک؛ تسلیم و تحلیل کی سنگین سازش سے نمٹنے میں ایک قوم کی فتح

آج سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ ایران باقی، زندہ، پائندہ اور قائم و دائم رہا؛ نہ صرف باقی رہا، بلکہ بہت سی پیش گوئیوں اور منصوبوں، سازشوں اور دسیسوں کو بھی باطل کر گیا جو اس کے مستقبل کے لئے تیار کئے گئے تھے۔ یہ وہی نکتہ ہے جس کے بارے میں تاریخ لکھے گی۔۔۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ قوموں کی تاریخ میں، ایسے لمحات آتے ہیں جو فوجی فتح یا سیاسی کامیابی سے بالاتر ہوتے ہیں، وہ لمحات جو "قومی شناخت" کے استحکام میں سنگِ میل بن جاتے ہیں۔ ایران نے جو کچھ گذشتہ مہینوں میں گذارا، وہ اسی نوعیت کا ہے؛ ایک ایسی جنگ جس کا مقصد محض فوجی نقصان پہنچانا یا سیاسی دباؤ ڈالنا نہیں تھا، بلکہ یہ ایک قوم کا راستہ بدلنے اور ایک ملک کا عزم و ارادہ توڑنے کی منظم سازش تھی۔

ایرانی قوم کو ارادہ توڑ کر تسلیم پر مجبور کرنے کے منصوبے کے پہلے دنوں سے ہی، امریکہ، صہیونی ریاست اور ان کے اتحادیوں کے اعلان کردہ، یہاں تک کہ خفیہ اہداف، واضح تھے۔ وہ غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کی بات کر رہے تھے، نظام کی تبدیلی کی باتیں کر رہے تھے، محور مقاومت توڑنے کی باتیں کر رہے تھے اور ان کو توقع تھی کہ بیک وقت فوجی، معاشی، ابلاغیاتی اور نفسیاتی دباؤ ایران کو پسپائی پر مجبور کر دے گا۔ لیکن آج، ایک سو سے زیادہ راتوں اور دنوں کی استقامت کے بعد، سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ان میں سے ان کا کون سا مقصد حاصل ہؤا؟

وہ منظرنامے جو یکے بعد دیگرے گرتے چلے گئے:

- طے یہ تھا کہ ایران اندرونی دنگا فساد سے دوچار ہو جائے گآ؛ ایسا ہرگز نہیں ہؤا۔

- طے یہ تھا کہ عوام اور حکومت کے درمیان دراڑ گہری ہو جائے گی؛ ایسا ہرگز نہیں ہؤا۔

- طے یہ تھا کہ مسلح افواج اپنی ہم آہنگی کھو دیں گی؛ ایسا ہرگز نہیں ہؤا۔

- طے یہ تھا کہ ملک کے اہم بنیادی ڈھانچے کام کرنا چھوڑ دیں گے؛ ایسا ہرگز نہیں ہؤا۔

- طے یہ تھا کہ ملک کی سیاسی اور سفارتی شخصیات اپنی ذمہ داریوں سے پسپائی اختیار کر لیں گی؛ ایسا ہرگز نہیں ہؤا۔

- طے یہ تھا کہ بیرون ملک بھاگی ہوئی [تشددپسند اور مغرب پرست] اپوزیشن کو ملک میں متبادل کے طور پر پیش کیا جائے گا؛ ایسا ہرگز نہیں ہؤا۔

- طے یہ تھا کہ نظام کی تبدیلی جنگ کے حتمی نتیجے کے طور پر رونما ہوگی؛ ایسا ہرگز نہیں ہؤا۔

- طے یہ تھا کہ ایران کے تمام تر گیس اور تیل جیسے قدرتی وسائل پر امریکہ قابض ہوجائے گا؛ ایسا ہرگز نہیں ہؤا۔

ہاں مگر، کچھ ضرور گر گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ جو چیز گر کر رہ گئی وہ ایران کا ڈھانچہ نہیں، بلکہ حسابات اور تخمینوں کا وہ مجموعہ تھا جو برسوں مغربی تھنک ٹینکس میں ایران کے بارے میں بنایا گیا تھا اور ریزہ ریزہ ہو گیا۔

حقیقی راز؛ ارادوں کی جنگ میں شکست

عام خیال کے برعکس، اس جنگ کا سب سے اہم میدان فوجی میدان نہیں تھا؛ بلکہ اصل جنگ ارادوں کے دائرے میں جاری تھی۔

زیادہ سے زیادہ دباؤ کے منصوبہ سازوں کا خیال تھا کہ ایرانی معاشرہ ایک طویل جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا اور دباؤ بڑھنے سے قومی یکجہتی ختم ہو جائے گی۔ لیکن گذشتہ مہینوں کے تجربے نے دکھایا کہ فیصلہ کن لمحات میں، ایرانی قوم اپنی تاریخی صلاحیتوں کو برقرار رکھتی ہے اور وہ اپنی آزادی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کرتی ہے۔

یہ وہی حقیقت ہے جسے بہت سے غیر ملکی تجزیہ نگار اپنے حسابات میں شامل نہ کر سکے، کہ ایران صرف ایک سیاسی ڈھانچہ نہیں، بلکہ ایک تاریخی اور تہذیبی شناخت ہے اور اس کے وجود کو لاحق خطرہ، تحلیل اور سماجی ویرانی پیدا کرنے کے بجائے، اس ملک کی وسیع تر یکجہتی کا باعث بنتا ہے۔

ایران؛ بحران کا موضوع سے لے کر فیصلہ کن کھلاڑی

اس مقابلے کا ایک اور اہم نتیجہ، علاقائی اور بین الاقوامی فارمولوں میں ایرانی پوزیشن کی تبدیلی تھی۔ ایک ملک، جس پر دباؤ ڈال کر دوسروں کی شرائط قبول کرنے پر مجبور کرنا مقصود تھا، اس نے بالآخر مخالف فریق کو اپنے منصوبوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا۔ یہ تبدیلی ظاہر کرتی ہے کہ قوموں کے لئے یکطرفہ فیصلہ کرنے کا دور ختم ہو رہا ہے اور بڑی طاقتیں بھی میدانی حقائق قبول کرنے کی پابند ہیں۔

اس دوران، اسلامی جمہوریہ ایران یہ نمایاں کرنے میں کامیاب رہا کہ وہ مشکل ترین حالات میں بھی داخلی استحکام، بحران کے انتظام اور اپنی تسدید کی صلاحیت (ڈیٹرنس) برقرار رکھنے کی اہلیت رکھتا ہے؛ یہ وہ جزء ہے جو آج قومی طاقت کے اہم ترین عناصر میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: چیف ایڈیٹر ابنا

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha