16 جون 2026 - 17:12
حسن عزالدین: امریکہ لبنان کی کوئی مدد نہیں کرے گا، اسرائیل پر حقیقی دباؤ صرف مقاومت کے ذریعے ممکن ہے

حزب اللہ کے رکنِ پارلیمنٹ حسن عزالدین نے لبنانی حکام کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ سے کسی قسم کی مدد یا اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی امید رکھنا ایک خام خیالی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ صہیونی رژیم پر حقیقی دباؤ صرف مقاومت اور مؤثر مذاکرات کے ذریعے ڈالا جا سکتا ہے، جبکہ لبنان کے استحکام کے لیے قومی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، حسن عزالدین نے بیروت میں ایک شہیدِ مقاومت کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لبنانی حکام کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ امریکہ کی جانب سے لبنان کی مدد یا اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لبنان کو یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ امریکہ نہ تو لبنان کے مفادات کا محافظ ہے اور نہ ہی وہ اسرائیل پر مؤثر دباؤ ڈالنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے بقول صہیونی دشمن پر حقیقی دباؤ واشنگٹن کے ذریعے نہیں بلکہ مقاومت کی طاقت اور مذاکراتی عمل کے نتیجے میں قائم ہوا ہے۔

حسن عزالدین نے لبنانی قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے عوام پر اعتماد کرے اور ان راستوں کی طرف واپس آئے جو میدانِ مقاومت میں کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی حکمتِ عملی پر نظرثانی اور معاشرے کے وسیع طبقات کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا وقت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے لبنان میں استحکام، سلامتی اور سماجی امن کے لیے داخلی قومی مفاہمت کو بنیادی ضمانت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجوں کا مقابلہ صرف قومی اتحاد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

رکنِ پارلیمنٹ نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف حالیہ جارحیت اور اس کے بعد ہونے والی سفارتی پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان واقعات سے تین اہم حقائق سامنے آئے ہیں۔

ان کے مطابق پہلی حقیقت ایران کی اسٹریٹجک کامیابی ہے، جو عوامی اتحاد، استقامت اور مزاحمت کے باعث حاصل ہوئی۔ دوسری حقیقت اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی ناکامی اور بڑھتی ہوئی تنہائی ہے، جو اپنے علاقائی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ تیسری حقیقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ناکامی ہے، جو اپنے متعدد وعدوں خصوصاً آبنائے ہرمز سے متعلق اہداف کو پورا نہ کر سکے۔

حسن عزالدین نے زور دے کر کہا کہ حزب اللہ اور اس کے اتحادی لبنان کے داخلی و علاقائی مسائل کے حل کے لیے خود انحصاری، قومی طاقت اور مقاومت پر یقین رکھتے ہیں، جبکہ بیرونی طاقتوں خصوصاً امریکہ پر انحصار کو غیر حقیقت پسندانہ اور لبنان کے مفادات کے خلاف سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لبنان اس وقت سیاسی، معاشی اور سکیورٹی بحرانوں سے دوچار ہے اور ان مشکلات سے نکلنے کے لیے قومی وحدت، داخلی مفاہمت اور عوامی قوتوں پر اعتماد ہی سب سے مؤثر راستہ ثابت ہو سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha