اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا|| قرآنِ کریم کی سورہ بقرہ کی آیت 187 میں ارشاد ہوتا ہے: “هُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ” یعنی “تمہاری بیویاں تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔” یہ قرآنی تعبیر ازدواجی زندگی کی گہرائی اور خوبصورتی کو واضح کرتی ہے۔
لباس کا مفہوم کیا ہے؟
لباس انسانی زندگی میں تین بنیادی کردار ادا کرتا ہے: جسم کی پردہ پوشی، موسم کی سختیوں سے حفاظت، اور خوبصورتی و زینت۔ قرآن کریم اسی مثال کے ذریعے واضح کرتا ہے کہ میاں بیوی بھی ایک دوسرے کے لیے یہی کردار ادا کرتے ہیں۔
یعنی زوجین ایک دوسرے کے لیے:
سکون اور ذہنی راحت کا ذریعہ ہیں
عزت اور وقار کی حفاظت کرتے ہیں
اور زندگی کو خوبصورتی اور محبت سے بھر دیتے ہیں
برابری اور باہمی ذمہ داری
قرآن کا یہ اندازِ بیان اس بات کو واضح کرتا ہے کہ ازدواجی رشتہ کسی ایک فریق کی برتری پر نہیں بلکہ برابری اور باہمی تعاون پر قائم ہے۔ مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے کے لیے محافظ اور سہارا ہیں۔
اس تصور کے مطابق نہ کوئی فریق برتر ہے اور نہ کمتر، بلکہ دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں اور مشترکہ زندگی کو مضبوط بناتے ہیں۔
ذمہ داری اور احترام کا اصول
جس طرح انسان اپنے لباس کی حفاظت کرتا ہے، اسی طرح ازدواجی رشتے میں بھی احترام، اعتماد اور خیال رکھنا ضروری ہے۔ میاں بیوی کا تعلق صرف جذباتی نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔
یہ ذمہ داریاں درج ذیل پہلوؤں پر مشتمل ہیں:
ایک دوسرے کی عزت و آبرو کی حفاظت
محبت، نرمی اور احترام کا رویہ
وفاداری اور سچائی پر قائم تعلق
غیرت: اعتدال یا انتہا؟
اسلام میں غیرت کو ایک مثبت جذبہ قرار دیا گیا ہے، لیکن اس میں اعتدال ضروری ہے۔ جائز غیرت کا مطلب ہے خاندان کی عزت اور اخلاقی حدود کی حفاظت، جبکہ بے جا شک اور سختی رشتوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔
صحیح غیرت یہ ہے کہ:
رشتوں میں پاکیزگی اور حدود کا خیال رکھا جائے
اعتماد کو قائم رکھا جائے
اور غیر ضروری شک و شبہ سے بچا جائے
جبکہ غلط غیرت وہ ہے جو:
بے جا نگرانی اور کنٹرول میں تبدیل ہو جائے
بدگمانی اور شک پیدا کرے
اور ازدواجی سکون کو ختم کر دے
قرآنی تعلیم کا خلاصہ
سورہ بقرہ کی آیت 187 ازدواجی تعلق کو نہایت خوبصورت اور عقلی انداز میں بیان کرتی ہے۔ اس آیت کے مطابق میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے لباس ہیں، یعنی ایک دوسرے کے لیے سکون، حفاظت، پردہ پوشی اور زینت کا ذریعہ ہیں۔ یہ تعلق باہمی محبت، اعتماد اور اخلاقی پاکیزگی کا تقاضا کرتا ہے، جس میں اعتدال اور ذمہ داری دونوں ضروری ہیں۔
قرآنِ کریم اس تعبیر کے ذریعے یہ بنیادی پیغام دیتا ہے کہ ازدواجی رشتہ برابری، احترام اور باہمی ذمہ داری پر قائم ہے۔ اس میں افراط و تفریط، غفلت یا بے جا سختی کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ رشتہ انسان کی سب سے مضبوط سماجی وابستگی ہے جس کی حفاظت ضروری ہے۔
آپ کا تبصرہ