اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکی ٹی وی چینل "این بی سی" کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکہ کے رہنماؤں کی جانب سے معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کیے جانے کے بعد توقع ہے کہ اس معاہدے پر حتمی اور باضابطہ دستخط جمعہ کے روز ہوں گے۔
وینس نے کہا کہ اب ایران کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ طویل المدت بنیادوں پر اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے حوالے سے سنجیدہ ہے۔ ان کے بقول امریکی حکومت معاہدے کی بعض شقوں کو عوام کے سامنے لانے پر غور کر رہی ہے، جبکہ اس کے ساتھ ہی معاہدے کے نفاذ اور نگرانی کے طریقہ کار سے متعلق تکنیکی مذاکرات کی تیاری بھی جاری ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ "ایک نئے باب" کا آغاز کرنا چاہتا ہے۔ وینس کے مطابق امریکہ چاہتا ہے کہ ایران ایک معمول کا ملک بنے جو بین الاقوامی قوانین کے مطابق عالمی برادری کے ساتھ تعلقات استوار کرے۔
امریکی نائب صدر نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی فوجی کارروائی کو "انتہائی کامیاب" قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس آپریشن نے اپنے تمام اہداف حاصل کر لیے ہیں۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد میں کوتاہی کرتا ہے یا معاہدے کی شقوں سے پیچھے ہٹتا ہے تو امریکہ بلا تردد اپنے سابقہ آپشنز، بشمول فوجی اقدامات، کی طرف واپس جا سکتا ہے۔
جے ڈی وینس نے ایک الگ انٹرویو میں امریکی نشریاتی ادارے "سی این این" سے گفتگو کرتے ہوئے معاہدے کی تفصیلات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان دستخط ہونے والی مفاہمتی یادداشت ایک نہایت عمومی نوعیت کی دستاویز ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ پابندیوں، جوہری ذمہ داریوں اور نگرانی کے نظام جیسے اہم اور پیچیدہ معاملات پر آئندہ تکنیکی مذاکرات میں تفصیلی بات چیت ہوگی اور حتمی اتفاق رائے بھی انہی نشستوں میں طے پائے گا۔
وینس نے مزید کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کا خیال ہے کہ اگرچہ اسرائیل کو بعض تحفظات لاحق ہیں، تاہم بالآخر وہ بھی اس معاہدے میں شامل ہو جائے گا اور خطے میں ایک نئے سیاسی مرحلے کا آغاز ہوگا۔
آپ کا تبصرہ