15 جون 2026 - 17:21
یمن کی صہیونی اقدامات کی مذمت؛ صومالی لینڈ کے سربراہ کا تل ابیب کا دورہ باعثِ شرم قرار

یمن کی قومی نجات حکومت کی وزارتِ خارجہ نے صومالی لینڈ کے سربراہ کے مقبوضہ فلسطین کے دورے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے باعثِ شرم قرار دیا ہے، جبکہ اسرائیل پر شاخِ افریقہ میں نئی کشیدگی پیدا کرنے کی کوششوں کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمن کی قومی نجات حکومت کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ شاخِ افریقہ میں صہیونی منصوبوں کے مقابلے میں وفاقی جمہوریہ صومالیہ کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے اور خطے میں کسی بھی قسم کی مداخلت کو مسترد کرتی ہے۔

بیان میں صومالی لینڈ کے سربراہ کے مقبوضہ فلسطین کے دورے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ جنگی جرائم کے مرتکب صہیونی حکام کے ساتھ مصافحہ اور مفاہمت باعثِ ننگ و عار ہے۔

دوسری جانب صومالیہ کے وزیر اطلاعات نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید کی اور کہا کہ تل ابیب کو شاخِ افریقہ میں فتنہ انگیزی اور ایک نئے تنازعے کے محاذ کی تشکیل سے باز آنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ صومالیہ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کی کسی بھی اسرائیلی کوشش کی سخت مذمت کرتا ہے اور اس معاملے پر اقوام متحدہ کے ساتھ رابطے میں ہے۔ ان کے مطابق نام نہاد صومالی لینڈ میں کسی صہیونی سفارتی نمائندے کی تعیناتی بھی ناقابلِ قبول ہے۔

رپورٹ کے مطابق صومالی لینڈ صومالیہ کے شمال مغربی حصے میں واقع ایک خطہ ہے جو کئی برسوں سے خودمختاری اور علیحدگی کی کوششیں کر رہا ہے، تاہم خطے کے بیشتر ممالک اسے ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتے۔

خبر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایتھوپیا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے بدلے سمندر تک رسائی حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے، جبکہ صہیونی حکومت پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اس خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے اور آبنائے باب المندب کے قریب اسٹریٹجک موجودگی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

یمنی وزارتِ خارجہ نے زور دیا کہ خطے کے ممالک کو بیرونی مداخلت اور تقسیم کے منصوبوں کے مقابلے میں اتحاد اور باہمی تعاون کو فروغ دینا چاہیے تاکہ شاخِ افریقہ میں امن و استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha