اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، سیاسی تجزیہ کار منیر شحادہ نے روزنامہ "العہد" میں شائع اپنے مضمون میں ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کی ناکامی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا ہے۔
مضمون میں کہا گیا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے آغاز پر واشنگٹن اور تل ابیب نے اپنی عسکری برتری کے اعتماد پر ایران کے نظام کے خاتمے، جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے اور محورِ مقاومت کے علاقائی اثر و رسوخ کو توڑنے جیسے بڑے اہداف مقرر کیے تھے، لیکن زمینی حقائق نے ان توقعات کو درست ثابت نہیں کیا۔
مصنف کے مطابق یہ حکمتِ عملی "اسٹریٹجک غرور" پر مبنی تھی، کیونکہ نہ ایران کا نظام کمزور ہوا اور نہ ہی محدود فوجی حملے اس کی دفاعی اور عسکری صلاحیتوں کو ختم کر سکے۔
تجزیے میں لبنان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگرچہ ملک کو بھاری جانی اور معاشی نقصان اٹھانا پڑا، تاہم اسرائیل ان تباہیوں کو کسی سیاسی کامیابی میں تبدیل کرنے میں ناکام رہا۔ مضمون کے مطابق جنگ نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ بمباری عمارتوں کو گرا سکتی ہے، لیکن مزاحمت کرنے والے معاشروں پر سیاسی فیصلے مسلط نہیں کر سکتی۔
منیر شحادہ لکھتے ہیں کہ اس جنگ کا ایک اہم پہلو امریکی اور اسرائیلی اہداف کا بتدریج محدود ہونا تھا۔ ابتدا میں "نظام کی تبدیلی" کے نعرے کے ساتھ شروع ہونے والی مہم بعد میں صرف "اثر و رسوخ محدود کرنے" تک سمٹ گئی، جبکہ آخرکار توجہ خلیج فارس میں توانائی کی ترسیل اور سمندری آمدورفت کے تحفظ تک محدود ہو گئی۔
مضمون میں زور دیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی عالمی معیشت میں اہمیت اور کسی بڑے تصادم کے ممکنہ اقتصادی نتائج نے مغربی طاقتوں کو دباؤ اور دھمکی کی پالیسی سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا اور بالآخر مذاکرات و مفاہمت کی راہ اختیار کرنا پڑی۔
تجزیے کے اختتام پر مصنف کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں مغربی بالادستی کے منصوبے نہ صرف اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے بلکہ انہوں نے واشنگٹن کو ایک سیاسی تعطل سے بھی دوچار کر دیا۔ ان کے بقول اس پوری کشمکش کا بنیادی سبق یہ ہے کہ سیاسی حمایت اور عوامی جواز کے بغیر عسکری طاقت دیرپا نتائج پیدا نہیں کر سکتی، بلکہ ایسے حالات میں طاقت کا بے جا استعمال بڑی قوتوں کو کمزور اور خطے کی اقوام کے عزم کو مزید مضبوط کر دیتا ہے۔
آپ کا تبصرہ