اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،میکسیکو کی روساریو کاستیانوس یونیورسٹی میں مغربی ایشیائی ممالک کی ثقافتی نمائش کا انعقاد کیا گیا، جس میں ایران کے سفیر ابوالفضل پسندیدہ نے خصوصی شرکت کی۔
یہ ثقافتی اور علمی نمائش بین الاقوامی تعلقات کے طلبہ اور اساتذہ کے تعاون سے منعقد ہوئی، جہاں مختلف ممالک کے لیے خصوصی اسٹالز قائم کیے گئے۔ طلبہ نے مختلف قوموں کی تاریخ، ثقافت، سیاحتی مقامات، روایات اور مقامی کھانوں کو متعارف کرایا۔
ایران کا اسٹال شرکاء کی خاص توجہ کا مرکز رہا۔ طلبہ نے ایرانی روایتی کھانوں اور مشروبات، جن میں استنبولی اور دوغ شامل تھے، پیش کیے۔ اس کے ساتھ ایران کی تاریخی عمارتوں، قدیم تہذیب اور ثقافتی ورثے سے متعلق معلومات بھی فراہم کی گئیں۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ آج کی دنیا میں ٹیکنالوجی اور رابطوں میں ترقی کے باوجود قوموں کے درمیان باہمی شناخت اور ثقافتی سمجھ بوجھ امن، دوستی اور تعاون کے فروغ کے لیے سب سے اہم عنصر ہے۔
انہوں نے ایران اور میکسیکو کے درمیان تہذیبی اور ثقافتی مشترکات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک عظیم انسانی تہذیبوں کے وارث ہیں اور صدیوں سے اپنی روایات اور ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔
ایرانی سفیر نے خاندان کے ادارے، قومی تہواروں، ادب اور فنون کے کردار کو بھی دونوں قوموں کے درمیان تعلقات مضبوط بنانے کا اہم ذریعہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور میکسیکو کے درمیان 120 سال سے زائد پرانے دوستانہ تعلقات موجود ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی، ثقافتی اور جامعاتی تعاون کے وسیع مواقع پائے جاتے ہیں۔
اپنی گفتگو کے اختتام پر انہوں نے میکسیکو کے معروف شاعر اکتاویو پاز کا قول نقل کیا کہ “ہر ثقافت ملاقات، اختلاط اور مکالمے سے جنم لیتی ہے” اور تہذیبوں کے درمیان مکالمے کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ بعد ازاں انہوں نے سعدی شیرازی کا مشہور شعر بھی پڑھا جس میں انسانوں کے اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیا گیا ہے۔
تقریب میں موجود طلبہ اور اساتذہ نے ایرانی سفیر کی گفتگو کو سراہا اور ایران کی ثقافت و تہذیب کے بارے میں مزید جاننے میں دلچسپی ظاہر کی۔
آپ کا تبصرہ