یہ ملاقات قذافی کی درخواست پر انجام پائی اور اس میں عراق کی کالعدم بعث پارٹی کے انتیس سیاسی و فوجی عہدیداروں نے کہ عراق سے فرار ہو کر دوسرے ملکوں میں مقیم ہیں، اپنی پالیسیوں خاص طور پر عراق کے انتخابات کے بعد اپنی حکمت عملی کی وضاحت کی اور اس کا جائزہ لیا۔
عراق کی منتخب حکومت کے محالفین اور مفرور افراد کے ساتھ لیبیا کے صدر معمر قذافی کی ملاقات کا ایک ایسے وقت میں انکشاف ہوا ہے کہ جب دس سے زائد لیبیائي باشندے عراق میں غیرقانونی طور پر داخل ہونے، کالعدم بعث پارٹی کے بچے کھچے افراد کے ساتھ تعاون کرنے اور اس ملک میں دہشت گردی کی کارروائیاں انجام دینے کے جرم میں عراقی جیلوں میں قید ہیں۔ دوسری جانب عراق میں مسلح حملہ آوروں نے پانچ سرکاری فوجیوں کو قتل کر دیا ہے۔
عراق کے سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ کچھ نامعلوم مسلح افراد نے آج جنوبی بغداد کے رضوانیہ علاقے میں حملہ کر کے کم از کم پانچ عراقی فوجیوں کو قتل کر دیا۔ اس رپورٹ کے مطابق عراقی فورسز نے اس علاقے کا محاصرہ کر کے سترہ مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ عراقی پولیس نے یہ بھی بتایا ہے کہ شمال مشرقی عراق کے دیالہ صوبے میں سکیورٹی فورسز کی تازہ کارروائی میں سات مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
دریں اثنا کرکوک شہر کے قریب گزشتہ رات نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں ایک عام شہری زخمی ہو گيا ہے۔
.......
152/