اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، حماس کے سینئر رہنما محمد نزال نے یورپی یونین کی جانب سے تحریک کے خلاف عائد کی گئی پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں محمد نزال نے کہا کہ یورپی یونین کا یہ فیصلہ مغربی عوامی رائے کے برخلاف ہے، کیونکہ یورپ اور دیگر مغربی ممالک کے عوام نے حالیہ عرصے میں فلسطینی عوام اور ان کے حقِ خود ارادیت کے ساتھ وسیع یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حماس کے خلاف پابندیاں سیاسی دباؤ کے تحت لگائی گئی ہیں اور ان کا مقصد فلسطینی عوام کی جائز جدوجہد کو نقصان پہنچانا ہے۔ ان کے مطابق یورپی یونین نے یہ اقدام امریکہ اور اسرائیل کے مطالبات کے جواب میں کیا ہے۔
محمد نزال نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے اور ان پابندیوں کو واپس لے، کیونکہ ان کی بنیاد ایسے الزامات پر رکھی گئی ہے جن کے حق میں کوئی قانونی یا معتبر ثبوت موجود نہیں۔
حماس رہنما نے مزید کہا کہ تحریک اپنے تمام طے شدہ معاہدوں اور ذمہ داریوں کی پابند ہے۔ انہوں نے ثالثی کرنے والے فریقوں اور امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر دباؤ ڈالیں تاکہ طے شدہ معاہدوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق اپنے وعدوں کی پاسداری کریں اور سیاسی تنازعات کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کریں۔
آپ کا تبصرہ