اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، جنوبی لبنان پر صہیونی رژیم کے حملوں میں شدت آنے کے ساتھ ہی لبنانی حکام نے تاریخی شہر صور اور دیگر آثارِ قدیمہ کو پہنچنے والے نقصانات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایک عمارت پر توپ خانے کے حملے کے بعد اٹھنے والے گھنے دھویں نے ہزاروں سال قدیم تاریخی پتھروں اور آثار کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ مقام شہر صور کے اس تاریخی علاقے کے قریب واقع ہے جو یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ فہرست میں شامل ہے۔
الجزیرہ کے مطابق خبر رساں ادارے اے ایف پی نے جمعرات کی صبح صہیونی حملے کے یہ مناظر ریکارڈ کیے۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب صہیونی فوج نے تقریباً دو گھنٹے قبل شہر صور میں ایک عمارت کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔ فوج کی جانب سے جاری نقشے میں متعلقہ مقام کو تاریخی علاقے کے بالکل قریب ظاہر کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق یہ کوئی الگ یا غیر معمولی اقدام نہیں تھا بلکہ گزشتہ چند روز کے دوران صہیونی رژیم نے ساحلی شہر صور کے وسیع علاقوں کے لیے بارہا انخلا کے انتباہات جاری کیے اور تاریخی عمارتوں و آثار کے اطراف شدید فضائی حملے کیے۔
لبنانی حکام نے یونیسکو کے تحفظ میں موجود تاریخی مقامات کے قریب ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق وزیر ثقافت غسان سلامہ نے عالمی اداروں اور مختلف ممالک کے وزرائے ثقافت سے رابطے کرکے جنوبی لبنان خصوصاً شہر صور اور قلعہ شقیف میں تاریخی مقامات کو پہنچنے والے نقصانات سے آگاہ کیا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ ان میں سے کئی مقامات یونیسکو کے خصوصی تحفظ میں شامل ہیں اور انہیں فضائی یا توپ خانے کے حملوں سے محفوظ رہنا چاہیے۔
ادھر لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا: "صور اور نبطیہ کے علاقوں پر مسلسل حملوں اور ان کے تاریخی آثار کی تباہی کا کوئی جواز نہیں۔"
دوسری جانب قلعہ شقیف کے مقام پر واقع "ارنون" بلدیہ نے بھی فیس بک پر جاری بیان میں صہیونی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس تاریخی قلعے کو مزید نقصان سے بچانے کا مطالبہ کیا۔
قلعہ شقیف کی تاریخ صلیبی دور بلکہ اس سے بھی پہلے تک جا پہنچتی ہے۔ یہ قلعہ ماضی میں بھی جنگوں کا مرکز رہ چکا ہے، کیونکہ 1982 سے 2000 تک جنوبی لبنان پر قبضے کے دوران صہیونی فوج اسے فوجی اڈے کے طور پر استعمال کرتی رہی تھی۔
شہر صور 1984 سے یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ فہرست میں شامل ہے اور فلسطینِ مقبوضہ کی سرحد سے صرف 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہی قربت اسے مسلسل صہیونی حملوں کی زد میں رکھتی ہے۔
یونیسکو نے نومبر 2024 میں حزب اللہ اور صہیونی رژیم کے درمیان جنگ کے دوران لبنان کے 34 ثقافتی ورثہ مقامات کو عارضی خصوصی تحفظ فراہم کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ اس تحفظ کی خلاف ورزی 1954 کے ہیگ کنونشن کی سنگین خلاف ورزی شمار ہوگی جس پر قانونی کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔
بعد ازاں گزشتہ اپریل میں مزید 39 مقامات کو بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا، جو لبنان کے تاریخی اور تہذیبی ورثے کو لاحق خطرات پر عالمی تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔
آپ کا تبصرہ