بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر عمان نے آبنائے ہرمز کے معاملے میں "مداخلت" کی تو "وہ اسے دھماکے سے اڑا دے گا"۔ ٹرمپ نے اس سے قبل فورٹ مائرز فوجی اڈے پر ایک تقریر کے دوران شیخی بگھارتے ہوئے دعویٰ کیا: "آبنائے ہرمز سب کے لئے کھلا رہے گا اور ہم اس کی حفاظت کریں گے۔" اس نے مزید کہا: "اگر عمان کسی دوسرے ملک کی طرح عمل نہیں کرتا، تو ہم اسے اڑانے پر مجبور ہو جائیں گے۔"
عربی-21 نیٹ ورک کے مطابق، روزنامہ "الرؤیہ" کے ایڈیٹر حاتم الطائی نے ان ہرزہ سرائیوں کے ردعمل میں، ٹرمپ کے بیانات کو اس کو درپیش "گہرے اور پیچیدہ بحران" کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ ٹرمپ "جنگ لڑنے کا قابل نہیں ہے" اور ان بیانات کی وجہ "ابراہیم معاہدوں کو آگے بڑھانے میں اس کی ناکامی" ہے۔
الطائی نے نے مزید کہا: "ٹرمپ خطے کے مسائل حل کرنے میں اپنی شکست کا جواز پیش کرنے کے لئے دھمکیوں اور تخریبکاری کا سہارا لے رہا ہے۔"
عمانی یونیورسٹی کے پروفیسر علی بن مسعود المعشنی نے کہا: "ایران اور خطے کے خلاف امریکہ کی دشمنانہ پالیسیوں نے ایران کو اپنی صلاحیتوں کی تقویت اور دفاعی قابلیتیں حاصل کرنے پر مجبور کیا۔"
یونیورسٹی پروفیسر سیف المعمری نے امریکی صدر کے بیانات کو "عمان کے کردار کو مرکزیت سے نکال باہر کرنے" اور ایران اور امریکی-اسرائیل جنگ کے بارے میں اس ملک (عمان) کے موقف کے خلاف امریکی رد عمل، قرار دیا اور کہا: "عمان اپنے موقف پر ثابت قدم ہے اور اس جنگ میں کردار ادا کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔"
عمانی محقق نصر البوسعیدی، نے ٹرمپ کو "احمق اور دہشت گرد" قرار دیا اور کہا کہ عمان نے "اس کی حقیقت کو فاش کر دیا ہے" اور یہ آشکار کر دیا ہے کہ ٹرمپ "صہیونی منصوبے کے زیر اثر ہے"۔
البو سعیدی نے تاکید کی: "ٹرمپ دھمکی اور خوف کی زبان استعمال کرتے ہوئے رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔"
سیاسی محقق محمد سعید الفطیسی، نے زور دے کہا کہ عمان سے "سازباز یا وابستگی (انحصار) کی زبان سے بات نہیں کی جاتی" اور سلطان قابوس کے بقول "عمان اپنے اور اپنی خودمختاری کے دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے۔"
انہوں نے کہا: "عمان ایک علاقائی طاقت ہے جو سودے بازی یا وابستگی کی زبان نہیں بولتی۔"
یونیورسٹی کی پروفیسر لیلا العبریہ نے کہا کہ "عمان کا انتظآم دھمکی کی زبان سے نہیں چلتا" اور جو "عمان کی خاموشی پر کھاتہ کھولتا ہے ہے وہ اس کی عظمت اور خودمختاری کو نہیں پہچانتا"۔
انھوں نے مزید کہا: "عمان ایک ایسا ملک ہے جو خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور جنگوں میں کسی کی حمایت نہیں کرتا۔"
یونیورسٹی پروفیسر زاہر الغسینی، نے "سیاسی اور تصوراتی ڈھانچوں اور فریم ورک کے اندر" ٹرمپ کے بیانات کا تجزیہ کرنے پر زور دیا اور عمان کے سفارتی اور "قابل اعتماد ثالثی" کے کردار پر زور دیا۔
انھوں نے کہا: "عمان خطے کے فریقوں کے باہمی تنازعات میں ثالثی میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اختلافات کے پرامن حل کے لئے کوشاں ہے۔"
خلیج فارس کے امور اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہر پروفیسر عبداللہ باعبود، نے اعلان کیا کہ عمان "اپنا پرامن طریقہ کار جاری رکھے گا" اور "ٹرمپ اور نیتن یاہو کے ڈکٹیشن کے آگے سر نہیں جھکائے گا" اور "بے کار اور مہمل ابراہیم معاہدوں پر دستخط نہیں کرے گا"۔
انھوں نے ٹرمپ کی زبان کو "دشنام طرازی، بے پروا، خطرناک اور ناقابل قبول" قرار دیا۔
انھوں نے کہا: "ٹرمپ جارحانہ زبان استعمال کرکے خطے کا سکون برباد کرنے کے لئے کوشاں ہے۔"
میگزین کے ایڈیٹر ڈاکٹر حمید السعیدی، "اشراق" نے عمان کے خلاف "جارحانہ اور غیر ذمہ دارانہ دھمکیوں" کی مذمت کی اور کہا: "یہ دھمکیاں بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی کا مصداق ہیں۔"
صحافی عبداللہ السعیدی نے ٹرمپ کے بیانات کو "دنیا کے احمق ترین اور بے حیا ترین رہنماؤں" کی طرف سے "ابلاغیاتی زوال" قرار دیا اور کہا: "ٹرمپ نے اس طرح کے بیانات کو اپنا اصل چہرہ دکھا دیا۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ