اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ گوکہ دہشت گرد امریکی صدر نے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی دی ہے، اور صہیونی فوج بھی اس کاروائی میں امریکہ کے ساتھ تعاون کے لئے تیاریاں کر رہی ہے، امریکی ایوان نمائندگان کے ریپبلکن سربراہ جیمز مائیکل جانسن (James Michael Johnson) نے دعویٰ کیا:
- "ایپک فیوری" آپریشن ختم ہوچکا ہے اور
- امریکہ اب صرف آبنائے ہرمز کھولنے کے درپے ہے، اور
- امریکی حکومت فی الحال کوئی سفوجی اقدام کے بجائے، ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے۔"
- ہمارے پاس اس وقت کوئی فعال سرگرمی نہیں ہے۔
- صدر نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن ایپک فیوری ختم ہو گیا ہے، اور
- اب ہم اپنے اگلے پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں، جو کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے!
واضح رہے کہ قبل ازیں، ٹرمپ کے یس مین امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے بظاہر ایران کے خلاف شروع کردہ جارحیت ـ یا بقول اس کے "ایپک فیوری آپریشن" (Epic fury operation) ـ کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے، مبینہ طور پر آبنائے ہرمز کھولنے کے لئے مبینہ "پروجیکٹ فریڈم!" نامی کاروائی کا اعلان کیا جو کہ ایپک فیوری آپریشن کی طرح ناکام ہو گئی۔
اور ہاں! ٹرمپ نے نام نہاد ایپک فیوری آپریشن کو ایران کی حکومت بدلنے، ایران کی فوجی قوت کا خاتمہ کرنے، اور اس ملک کو کے حصے بخرے کرنے اور ایرانی تیل پر قبضہ کرنے کو اس آپریشن کا مقصد قرار دیا تھا اور اب شکست کھانے کے بعد اس آبنائے ہرمز کو کھولنے پر اپنی توجہ مرکوز کئے ہوئے تھا جو اس کی غیر قانونی وحشیانہ جارحیت سے قبل کھلا تھا اور اس میں آزادانہ جہازرانی ہو رہی تھی جبکہ یہ آبنائے ایران کی قلمرو کا حصہ ہے اور ایران گذشتہ 47 سال سے ـ کسی توقع کے بغیر ـ جہازرانی کی حفاظت کرتا رہا تھا۔
آج اس آبراہ پر ایران کا کنٹرول ہے اور اس کی اجازت کے بغیر جہازرانی ناممکن ہے۔ یعنی ایپک فیوری نے الٹا نتیجہ دیا، ایک نئی عالمی طاقت ابھر گئی یعنی ٹرمپ نے کھودا پہاڑ اور نکلا شیر، جس نے اسے خطے سے مار بھگایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ