اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، قزاقستان نے بحیرۂ خزر کے راستے ایران کو خوردنی تیل کی برآمدات کا نیا سلسلہ شروع کرتے ہوئے علاقائی تجارتی تعاون میں اہم پیش رفت حاصل کر لی ہے۔
قزاقستان کی وزارت زراعت کے مطابق 2026 کے موسمِ بہار میں ملک نے کلزا اور سورج مکھی کے تیل کی کئی آزمائشی کھیپیں کامیابی کے ساتھ ایران کی شمالی بندرگاہوں تک پہنچائیں۔ اس اقدام کو دونوں ممالک کے درمیان بحری تجارت کے فروغ کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
قزاقستان کی نیشنل آئل سیڈ پروسیسرز ایسوسی ایشن کے مطابق پہلی کھیپ، جس میں پانچ ہزار ٹن کلزا آئل شامل تھا، 4 اپریل کو آکتائو بندرگاہ سے روانہ کی گئی۔ اس کے بعد 13 مئی کو پانچ ہزار ٹن سورج مکھی کے تیل پر مشتمل دوسری کھیپ بھی ایران کے لیے روانہ کر دی گئی۔
ایسوسی ایشن کے سربراہ یادیکار ابراگیموف نے کہا کہ ایران خوردنی تیل کی مصنوعات کے لیے ایک بڑی اور پرکشش منڈی ہے۔ ان کے مطابق ایران سالانہ تقریباً پینتیس لاکھ ٹن خوردنی تیل اور متعلقہ مصنوعات درآمد کرتا ہے، جن میں پندرہ لاکھ ٹن صرف خوردنی تیل پر مشتمل ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بحیرۂ خزر کے ذریعے مشترکہ آبی سرحد اور ایران و یوریشین اکنامک یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ دونوں ممالک کے لیے خصوصی تجارتی سہولتیں فراہم کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس نئے بحری راستے کے ذریعے ہر ماہ تین سے چار بحری کھیپیں بھیجی جا سکیں گی، جس سے سالانہ برآمدات ایک لاکھ پچاس ہزار سے دو لاکھ ٹن تک پہنچنے کی توقع ہے۔
قزاقستان نے 2026 سے 2028 کے روڈ میپ کے تحت خوردنی تیل کی برآمدات سے سالانہ ایک ارب ڈالر آمدنی حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ طویل مدت میں ایران اور قازقستان کے درمیان تجارتی حجم دو ارب ڈالر تک بڑھانے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔
دوسری جانب دونوں ممالک بحیرۂ خزر کے راستے بندرگاہی تعاون بڑھانے، لاجسٹک ٹرمینلز قائم کرنے اور ریل رابطوں کو وسعت دینے پر بھی کام کر رہے ہیں۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بحیرۂ خزر میں پانی کی سطح میں مسلسل کمی مستقبل میں بندرگاہی سرگرمیوں اور بحری تجارت کے لیے بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
آپ کا تبصرہ