16 مئی 2026 - 06:29
حصۂ اول | ٹرمپ کے دورہ چین کے بارے میں مغربی میڈیا کا تجزیہ؛ تکلفات 100٪ کامیابیاں 0٪

ٹرمپ کے چین کے اعلیٰ سطحی دورے کے نتائج کے بارے میں اپنے تجزیئے میں مغربی میڈیا نے زور دیا کہ چین کی جانب سے امریکی صدر کے لئے اعلیٰ سطحی تقریبات کے باوجود، ٹرمپ کلیدی اور اہم امور پر کوئی ٹھوس کامیابی حاصل کئے بغیر بیجنگ چھوڑ گیا۔

حصۂ اول | ٹرمپ کے دورہ چین کے بارے میں مغربی میڈیا کا تجزیہ؛ تکلفات 100٪ کامیابیاں 0٪

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چین کے اعلیٰ سطحی دورے کے اختتام کے ساتھ ہی بہت سے مغربی ذرائع ابلاغ اس تین روزہ دورے کی کامیابیوں کا جائزہ اور تجزیہ کرنے لگے ہیں۔

ان میں سے زیادہ تر ذرائع ابلاغ اس بات پر متفق ہیں کہ اگرچہ اس دورے نے بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات کو کسی حد تک مستحکم کیا ہے، لیکن ٹرمپ نے واشنگٹن کی تشویش کے اہم مسائل ـ جیسے کہ ایران کے خلاف جنگ، آبنائے ہرمز کا مسئلہ اور تائیوان ـ پر کوئی کامیابی حاصل کئے بغیر یہ ملک چھوڑ دیا ہے۔

سی این این نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا، "ٹرمپ نے کسی کامیابی کے بغیر، لیکن بیجنگ کے ساتھ مستحکم تعلقات کے اشارے کے ساتھ چھوڑا ہے"۔

نیویارک ٹائمز نے لکھا، "ٹرمپ اور شی نے تعلقات میں استحکام کے اشارے دیئے، لیکن بڑی کشیدگی حل نہیں ہوئی۔"

ایک رسمی لیکن لاحاصل دورہ

لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعہ کے روز چین کے ساتھ تجارت پر کسی بڑی پیش رفت یا ایران جنگ کے خاتمے کے لئے بیجنگ کی طرف سے ٹھوس مدد کے بغیر چین سے واپس روانہ ہؤا۔

روئٹرز نے ایک تفصیلی رپورٹ میں لکھا: "ٹرمپ دو دن تک اپنے میزبان شی جن پنگ کی تعریف میں گذارنے کے بغیر خالی ہاتھ گھر پلٹ گیا۔"

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کے امریکہ کے اہم تزویراتی اور اقتصادی حریف کے دورے کا مقصد، مڈٹرم انتخابات سے قبل، اپنی گھٹتی ہوئی مقبولیت بڑھانے کے لئے ٹھوس نتائج حاصل کرنا تھا۔ یہ 2017 میں اس کے آخری دورہ چین، کسی امریکی صدر کا پہلا دورہ چین تھا۔ یہ ملاقات رسمی تھی، فوجی دستوں سے لے کر ایک خفیہ باغ کے دورے تک، لیکن بند دروازوں کے پیچھے۔

شی جن پنگ نے ٹرمپ کو دو ٹوک انتباہ دیا کہ چین کی اہم تشویش، تائیوان کے بارے میں کوئی بھی غلط اقدام تنازع کا باعث بن سکتا ہے۔

ٹرمپ نے سفر کے دوران غیر معمولی تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے، اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

ان کی بے تکی باتیں یا بلا سوچے سمجھے باتیں زیادہ تر شی جن پنگ کے موقف کی گرمجوشی اور ان کی مضبوط پوزیشن کی مداحی پر مرکوز تھیں۔

ٹرمپ نے ژونگ نانہائی کمپلیکس (ایک سابقہ ​​شاہی باغ جس میں چین کے لیڈروں کے دفاتر ہیں) میں اپنی تازہ ترین ملاقات کے دوران کنگ پاو کیکڑوں اور مسلز کے کھانے سے پہلے کہا۔ ""یہ ایک ناقابل یقین سفر تھا، مجھے لگتا ہے کہ اس سے بہت ساری اچھی چیزیں اخذ ہوئی ہیں۔"

جاری ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رپورٹ: مہدی محمودی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha