اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، ترکی کے وزیر اعظم حالیہ ایام میں ترکی میں ہی اسلام مخالف اقدامات ـ بالخصوص خواتین کے حجاب کے خلاف ـ ہونے والے اقدامات کے حوالے سے بات چیت کررہے تھے۔
گذشتہ دنوں حزب مخالف کی بعض خاتون اراکین نے چادر کو ـ حجاب کی علامت کے طور ـ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سامنی پھاڑ کر پھینکا تھا۔
ترک وزیر اعظم نے کہا: لوگوں کو آزاد چھوڑیں تا کہ وہ جو چاہیں پہنیں؛ آیئے ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کریں اور افراد کے ذاتی حقوق کا لحاظ رکھیں۔

یادرہے کہ حالیہ ایام میں ترکی میں "اسلامی سلطنت کے زوال" کی "برسی نہیں" بلکہ "سالگرہ" منائی گئی۔
اسلامی سلطنت 1924 میں زوال پذیر ہوئی تھی اور اس کے بعد کمال پاشا کی سرکردگی میں لادینی حکومت قائم کی گئی تھی اور دین کو عوام کی سماجی زندگی سے بزور شمشیر نکال باہر کیا گیا تھا۔
سالگرہ کی محافل میں اسلام دشمن حرکتیں کی گئیں اور ترکی کی پیپلز پارٹی کے خواتین ونگ کے اراکین نے سڑکوں پر مظاہرے کئے اور اسلامی حجاب کی علامت کے طور پر سیاہ رنگ کی چادریں پھاڑ کر پھینک دیں۔
اسی اثناء میں بعض جامعات اور اداروں میں حجاب پر پابندی لگانے کی کوششیں کی گئیں جس پر وزیراعظم کو رد عمل دکھانا پڑا۔
وزیراعظم رجب طیب اردوغان نے کہا کہ حجاب پر قدغن لگانا خانۂ خدا (کعبہ) کو ویران کرنے کے مترادف ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ترکی میں اسلام کی طرف مائل حکومت کے قیام کے بعد اس ملک میں اسلامی شعائر ـ بالخصوص اسلامی حجاب ـ کی طرف رجحان میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور خواتین اسلامی حجاب کا زبردست خیرمقدم کررہی ہیں اور یہی امر لادین عناصر کی تشویش اور فکرمندی کا باعث بن گیا ہے۔
.......................
/110